WE News:
2026-06-03@03:57:58 GMT

3 ماہ میں 20 کلو وزن کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

3 ماہ میں 20 کلو وزن کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

نیا سال شروع ہوتے ہی صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور وزن کم کرنے کے عزم میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق تیزی سے وزن کم کرنا آسان نہیں اور اس کے لیے سخت نظم و ضبط اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔

 معروف فٹنس ٹرینر تکائی راشد نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر چند بنیادی اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے تو 3 ماہ میں 20 کلو تک وزن کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزن کم کرنے والی نئی گولیوں سے کھانے کی صنعت میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی؟

تکائی راشد نے اپنی انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وزن کم کرنا قسمت یا اتفاق پر منحصر نہیں بلکہ یہ واضح منصوبہ بندی، خود پر قابو اور روزمرہ زندگی میں مشکل فیصلے کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے 10 اہم اصول شیئر کیے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Takai Raashid | MacroMaster® (@takai.

raashid)

میٹھے مشروبات کو خیرباد کہہ دیں

ان کے مطابق سب سے پہلے میٹھے مشروبات جیسے سوڈا، پیک شدہ جوس، مالٹ ڈرنکس اور الکوحل کو ترک کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ غیر ضروری کیلوریز کا بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان کی جگہ پانی، گرین ٹی یا لیموں اور ادرک والا پانی بہتر انتخاب ہے۔

زیادہ کاربوہائیڈریٹس کم کریں

انہوں نے سفید ڈبل روٹی، پیسٹری، تلی ہوئی اشیا اور چاول کے زیادہ استعمال سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وزن کم کرنے کے دوران دبلا پروٹین، سبزیاں اور کچے کیلے جیسے صحت مند کاربوہائیڈریٹس کو ترجیح دینی چاہیے۔

رات دیر سے کھانے کی عادت چھوڑ دیں

فٹنس ٹرینر کے مطابق رات دیر سے کھانے یا اسنیکس لینے کی عادت وزن بڑھنے کی بڑی وجہ بنتی ہے، اس لیے کھانے کا ایک مقررہ وقت طے کرنا اور رات کے وقت صرف پانی پینا زیادہ مفید ہے۔

باہر کا کھانا کم کریں

تکائی راشد نے باہر کے کھانے کو محدود کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ فاسٹ فوڈ نہ صرف صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ وزن کم کرنے کے عمل کو بھی سست کر دیتا ہے، جبکہ گھر کا کھانا غذائیت پر بہتر کنٹرول فراہم کرتا ہے۔

جسمانی سرگرمی بڑھائیں

انہوں نے روزانہ زیادہ سے زیادہ جسمانی سرگرمی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کھانے کے بعد چہل قدمی، سیڑھیاں استعمال کرنا اور روزانہ کم از کم 10 ہزار قدم چلنا چربی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

طاقت بڑھانے والی ورزشوں کو معمول بنائیں

ان کے مطابق ہفتے میں دو سے تین بار اسٹرینتھ ٹریننگ یا طاقت بڑھانے والی ورزشیں کرنا ناگزیر ہے کیونکہ یہ جسم کو مضبوط بناتی ہیں اور ضدی چربی کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

جنک فوڈ ترک کریں

تکائی راشد نے جنک فوڈ جیسے بسکٹ، مٹھائیوں اور چپس سے مکمل پرہیز اور ان کی جگہ پھل یا یونانی دہی جیسے صحت مند اسنیکس اپنانے کی بھی ہدایت کی۔

نیند کو اہمیت دیں

نیند کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم نیند زیادہ بھوک اور غیر ضروری کھانے کا باعث بنتی ہے، اس لیے روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند وزن کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ذہنی طور پر مضبوط رہیں

ذہنی مضبوطی کو بھی وزن کم کرنے کا اہم عنصر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سماجی تقریبات، خاندانی دباؤ اور خواہشات کے باوجود بہتر فیصلے کرنا سیکھنا ہوگا۔

پیشہ ورانہ مدد لینے سے نہ گھبرائیں

آخر میں انہوں نے کہا کہ بڑے اہداف کے حصول کے لیے پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کرنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اور کسی مستند ٹرینر یا ماہر سے مدد لینے سے نتائج جلد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وزن کم کرنے کا طریقہ وزن میں کمی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: وزن کم کرنے کا طریقہ وزن کم کرنے کے تکائی راشد نے انہوں نے کے مطابق سکتا ہے کرنے کا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ