گوگل نے اپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی بعض صحت سے متعلق معلوماتی سمریز اس وقت ہٹا دیں جب برطانوی اخبار گارڈین کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا کہ یہ سمریز صارفین کو غلط اور گمراہ کن طبی معلومات فراہم کر رہی تھیں جس سے ان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

تحقیق کے مطابق گوگل کی AI Overviews  جو سرچ نتائج کے آغاز میں کسی سوال یا موضوع کا خلاصہ پیش کرتی ہیں جگر کے خون کے اہم ٹیسٹس سے متعلق غلط معلومات فراہم کر رہی تھیں۔ ماہرین نے ان معلومات کو ’انتہائی خطرناک‘ اور ’تشویشناک‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے شادی کے وعدے کیوں لکھوائے؟ عدالت نے شادی غیر قانونی قرار دے دی

گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، جب صارفین نے جگر کے خون کے ٹیسٹس کی نارمل حد سے متعلق سوالات سرچ کیے تو انہیں ایسے اعداد و شمار دکھائے گئے جن میں مناسب طبی وضاحت موجود نہیں تھی جبکہ مریض کی عمر، جنس، نسل یا ملک کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ حدود اصل طبی معیار سے نمایاں طور پر مختلف ہو سکتی تھیں۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا کہ ایسی معلومات سنگین جگر کی بیماری میں مبتلا افراد کو یہ غلط تاثر دے سکتی ہیں کہ ان کے ٹیسٹ نارمل ہیں جس کے نتیجے میں وہ ضروری فالو اپ علاج یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے گریز کر سکتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

تحقیق سامنے آنے کے بعد گوگل نے what is the normal range for liver blood tests اور what is the normal range for liver function tests جیسے سرچ سوالات کے لیے AI Overviews ہٹا دی ہیں۔

گوگل کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی سرچ کے انفرادی نتائج پر تبصرہ نہیں کرتی، تاہم جہاں اے آئی سمریز میں سیاق و سباق کی کمی ہو وہاں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پالیسی کے تحت کارروائی بھی کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟

برٹش لیور ٹرسٹ کی ڈائریکٹر کمیونیکیشنز اینڈ پالیسی، وینیسا ہیبڈچ نے گوگل کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے تاہم خدشہ ہے کہ اگر سوال کو مختلف انداز میں سرچ کیا جائے تو اب بھی گمراہ کن اے آئی سمریز سامنے آ سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیور فنکشن ٹیسٹ دراصل مختلف خون کے ٹیسٹس کا مجموعہ ہوتا ہے اور ان کے نتائج کی تشریح محض نمبروں کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی سمریز نہ صرف غلط نمبرز پیش کر رہی تھیں بلکہ یہ وارننگ بھی شامل نہیں کرتی تھیں کہ شدید جگر کی بیماری کے باوجود بعض ٹیسٹ نارمل آ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں

پیشنٹ انفارمیشن فورم کی چیئر سو فرنگٹن نے بھی سمریز کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیا تاہم کہا کہ یہ محض پہلا قدم ہے۔ ان کے مطابق اب بھی گوگل کی اے آئی سمریز میں صحت سے متعلق متعدد غلط معلومات موجود ہیں جس سے عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد پہلے ہی مستند طبی معلومات تک رسائی سے محروم ہیں، ایسے میں گوگل جیسے پلیٹ فارمز پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صارفین کو مستند، تحقیق شدہ اور قابلِ اعتماد طبی ذرائع کی جانب رہنمائی فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران

رپورٹ کے مطابق کینسر اور ذہنی صحت سے متعلق بعض دیگر سرچ سوالات پر بھی گوگل کی اے آئی سمریز تاحال موجود ہیں، جنہیں ماہرین نے ’بالکل غلط‘ اور ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ ان سمریز میں معتبر ذرائع کے لنکس شامل ہیں اور صارفین کو ماہرین سے رجوع کرنے کی تلقین بھی کی جاتی ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ فیوچرزم کے سینئر ایڈیٹر وکٹر ٹینگرمین کے مطابق اس تحقیق نے واضح کر دیا ہے کہ گوگل کو اپنی اے آئی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صحت سے متعلق خطرناک غلط معلومات کی ترسیل روکی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی اے آئی اور مریض چیٹ گی پی ٹی گوگل گوگل اے آئی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی اور مریض چیٹ گی پی ٹی گوگل گوگل اے ا ئی یہ بھی پڑھیں اے آئی سمریز کے مطابق گوگل کی اے ا ئی کہا کہ کر رہی

پڑھیں:

یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری

دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔

اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔

فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔

جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ