Jang News:
2026-07-24@01:55:00 GMT

پاکستان کا 2030 تک 60 فیصد قابل تجدید توانائی کا ہدف مقرر

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

پاکستان کا 2030 تک 60 فیصد قابل تجدید توانائی کا ہدف مقرر

پاکستان نے 2030 تک 60 فیصد قابل تجدید توانائی حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، کیونکہ ملک تیز رفتاری سے صاف، پائیدار توانائی کے ذرائع کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

یہ بات وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے ماحولیاتی تبدیلی، رومینہ خورشید عالم نے ابوظبی میں 16ویں بین الاقوامی ایجنسی برائے قابل تجدید توانائی (IRENA) کی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی کُل بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 53 فیصد رہا جو ایک ریکارڈ ہے۔

جاری منصوبوں کی رفتار تیز، قابل تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے، مراد علی شاہ

کراچی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ.

..

انہوں نے توانائی کے شعبے میں پاکستان کی تیز رفتار ترقی کا ذکر کیا جسے دنیا کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے سولر مارکیٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔ 

انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2026ء کے آخر تک پاکستان میں 12 گیگاواٹ آف گریڈ سولر اور 6 گیگاواٹ نیٹ میٹرڈ سولر صلاحیت حاصل کرنے کی توقع ہے۔

رومینہ خورشید عالم نے مزید کہا کہ پاکستان نے قدرتی آفات بالخصوص سیلاب کے دوران، توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کو غیر معمولی انداز سے استعمال کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سولر کٹس تقسیم کیں اور سولر کٹس نے بجلی کی بحالی اور لوگوں کو روٹی روزی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنے اختتامی کلمات میں، رومینہ خورشید عالم نے ارینا اور بین الاقوامی شراکت داروں سے ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی امداد بڑھانے کی اپیل کی۔

واضح رہے کہ 16ویں ارینا اسمبلی میں 139 ممالک سے 15سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی اور پاکستان کی توانائی کے شعبے میں تبدیلی کے حوالے سے کامیابیوں کو بھی سراہا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: قابل تجدید توانائی

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ