پورٹ قاسم پاکستانی معیشت کا اہم گیٹ وے بنےگی، جنید انوار چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کراچی:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت پورٹ قاسم پر اہم اجلاس میں کلائمیٹ ریزیلینٹ انڈسٹریل کمپلیکس کے طویل المدتی منصوبے کا اعلان کیا گیا۔وزیر بحری امور کے مطابق پورٹ قاسم کو عالمی صنعتی و لاجسٹک مرکز بنایا جائے گا اور یہ پاکستان کی قومی معیشت کا اہم گیٹ وے بنے گا۔
پورٹ قاسم کے ترقیاتی منصوبے کا دائرہ کار 14 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط ہے اور اسے تین مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مشرقی زون ہیوی انڈسٹری اور ایکسپورٹ یونٹس کے لیے مختص کیا گیا ہے، شمال مغربی زون میں ویلیو ایڈڈ انڈسٹری اور پورٹ سروسز کے فروغ کا منصوبہ ہے جبکہ جنوبی مغربی زون میں خصوصی صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وزیر بحری امور کے مطابق پورٹ قاسم میں اس وقت 833 صنعتی یونٹس فعال ہیں اور 40 زیر تعمیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم صرف بندرگاہ نہیں بلکہ ایک متحرک صنعتی ایکو سسٹم ہے، جو سپلائی چین اور برآمدات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
محمد جنید انوار چوہدری نے پورٹ انفراسٹرکچر کی جدید کاری اور روڈ و ریل کنیکٹیوٹی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم انڈسٹریل کمپلیکس روزگار، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کا مرکز بنے گا اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پورٹ قاسم
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔