ملک بھر میں یکساں ٹیرف؛ بجلی کے نئے نرخوں کا اعلان کب متوقع؟ تاریخ سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک بھر میں یکساں ٹیرف نافذ کرنے کے لیے بجلی کے نئے نرخوں کا اعلان جلد متوقع ہے، اس حوالے سے ممکنہ تاریخ سامنے آ گئی۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کا ایک جیسا ریٹ نافذ کرنے کی تیاری کے سلسلے میں نیپرا میں وفاقی حکومت کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی سربراہی میں ہوئی۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے نئے کنزیومر اینڈ ٹیرف کی درخواست دائر کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کے موجودہ ٹیرف نوٹیفکیشن میں ترمیم کی تجویز بھی پیش کررکھی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے بھی یکساں ٹیرف کے نفاذ کی استدعا کی ہے، جس پر نیپرا ایکٹ کے سیکشن 31 کے تحت نظرثانی شدہ ٹیرف نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔
عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے منظوری کے بعد نئے بجلی نرخوں کا اطلاق 15 جنوری سے متوقع ہے۔
نیپرا سماعت کے دوران پاور ڈویژن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی نرخوں میں 26 فیصد کمی کی گئی ہے، جس کے مطابق صنعتی ٹیرف 62.
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ قومی اوسط بجلی نرخ 53.04 روپے سے کم ہو کر 42.27 روپے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔ زرعی شعبے کے لیے بجلی نرخوں میں 16 فیصد، کمرشل صارفین کے لیے 10 فیصد کمی کی گئی ہے جب کہ جنرل سروسز کے نرخوں میں 12 فیصد اور بلک صارفین کے نرخوں میں 15 فیصد کمی کی گئی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے نرخوں میں 46 فیصد نمایاں کمی کی گئی ہے۔
نجی یونیورسٹی میں خودکشی کرنیوالی طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن کردیا گیا
دورانِ سماعت صنعتی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ چین میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی 5 سے 7 سینٹ ہے جب کہ پاکستان میں اس وقت صنعت کے لیے بجلی 13 سینٹ پر ہے۔ صنعتی صارفین نے کہا کہ وہ 5 سینٹ نہیں مانگ رہے لیکن کم از کم 9 سینٹ تک ٹیرف کیا جائے کیونکہ موجودہ بجلی ٹیرف پر پاکستان میں انڈسٹری نہیں چل سکتی۔
انہوں نے کہا کہ انڈسٹری ٹیرف میں سے کراس سبسڈی کو ختم کرنا ہوگا۔ صنعتی صارفین اس وقت 131 ارب روپے کی کراس سبسڈی ادا کر رہے ہیں۔ صنعتی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ انڈسٹری چلے گی تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ یہ بجلی ٹیرف کا نہیں بلکہ پالیسی کا مسئلہ ہے ۔ ملک میں بجلی پر کراس سبسڈی ایک سیاسی مسئلہ ہے۔
خیبر: گھر میں گیس لیکج سے ایک شخص جاں بحق، خواتین و بچوں سمیت 5 افراد بے ہوش
صنعتی صارفین نے بتایا کہ 801 ارب روپے کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے کراس سبسڈی ڈالی گئی جب کہ بجلی سستی ہوگی تو فروخت ہوگی اور مہنگی ہوگی تو کم استعمال ہوگی۔
نیپرا سماعت کے دوران پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ حکومت نے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق سبسڈی کو ایڈجسٹ کیا گیا ہے اور اب ٹیرف میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ جولائی سے اب تک انرجی مکس میں فرق آیا ہے، جس پر حکومت نے ٹیرف میں ردوبدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ اس وقت تمام کیٹیگریز کے صارفین کو 629 ارب روپے کی سبسڈیز دی جا رہی ہیں۔
ویڈیو: پاکستان میں پہلی مرتبہ اونٹ کی بریانی بکنے لگی، کراچی کے ریسٹورنٹ پر منفرد کھانے، عوام کا رش لگ گیا
بعد ازاں بجلی کی اوسطاً فی یونٹ قیمتوں میں رد و بدل کے حوالے سے نیپرا میں جاری سماعت مکمل ہوئی۔ اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار کا جائزہ لے کر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔ دورانِ سماعت پاور ڈویژن نے نیپرا سے بلنگ سرکل میں فیصلہ جاری کرنے کی استدعا کی، جس پر اتھارٹی نے جلد فیصلہ جاری کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: صنعتی صارفین نے صارفین کے لیے کمی کی گئی ہے کے لیے بجلی پاور ڈویژن کراس سبسڈی حکومت نے بتایا کہ ارب روپے ٹیرف میں بجلی کے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ