سرکاری اداروں کی تباہ حالی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260112-03-2
پاکستان کی معیشت اس وقت جن پیچیدہ اور گمبھیر مسائل سے دوچار ہے، ان میں سرکاری ملکیتی ادارے ایک خاموش مگر مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں۔ خبر کے مطابق مالی سال 2024-25 کے اعداد و شمار نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ان اداروں کی ساخت، انتظام اور احتساب کے نظام میں فوری اور بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی خزانہ ایک ایسی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا جس سے نکلنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو 123 ارب روپے کا خالص نقصان ہوا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہی خسارہ 30.
کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں کے حالیہ اجلاس میں پیش کی گئی جامع کارکردگی رپورٹ نے کئی تلخ حقائق کو بے نقاب کیا ہے۔ مالی سال 25-2024 میں سرکاری اداروں کی مجموعی آمدنی 12.4 ٹریلین روپے رہی، جو بظاہر ایک بڑی رقم ہے، مگر اس آمدنی کا بڑا حصہ منافع میں تبدیل ہونے کے بجائے انتظامی نااہلی، مالی بدعنوانی، تکنیکی نقصانات اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو گیا۔ خاص طور پر تیل کے شعبے میں عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باعث منافع میں کمی ضرور ہوئی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف عالمی عوامل ہی ان اداروں کی خراب کارکردگی کے ذمے دار ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ دہائیوں سے جاری ناقص حکمرانی، سیاسی مداخلت اور میرٹ کے قتل نے ان اداروں کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ منافع کمانے والے سرکاری اداروں کے مجموعی منافع میں 13 فی صد کمی ہو کر 709.9 ارب روپے رہ جانا بھی ایک تشویش ناک رجحان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ادارے جو قومی خزانے کے لیے سہارا بن سکتے تھے، خود دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب خسارے میں چلنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات اگرچہ 2 فی صد کم ہو کر 832.8 ارب روپے رہے، لیکن اس معمولی کمی کے باوجود مجموعی طور پر سرکاری اداروں کا نتیجہ 122.9 ارب روپے کے خالص نقصان کی صورت میں نکلا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے جو کہانیاں چھپی ہیں، وہ ہماری ریاستی انتظامیہ کی ناکامیوں کی ایک طویل فہرست پیش کرتی ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی 153.3 ارب روپے کے خسارے کے ساتھ سرفہرست ہے، اور اس کے مجموعی نقصانات اب 1953 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ رقم کئی بڑے ڈیموں، موٹرویز یا توانائی منصوبوں کے برابر ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر این ایچ اے جیسا ادارہ، جس کے پاس ٹول ٹیکس، سرکاری فنڈنگ اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے مواقع موجود ہیں، مسلسل خسارے میں کیوں جا رہا ہے؟ کیا اس کی وجہ ناقص منصوبہ بندی، مہنگے قرضے، تاخیر کا شکار منصوبے اور بدعنوانی نہیں؟ اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، کوئٹہ الیکٹرک، سکھر الیکٹرک اور پشاور الیکٹرک، اربوں روپے کے نقصانات کے ساتھ قومی معیشت پر بوجھ بنی ہوئی ہیں۔ کوئٹہ الیکٹرک کو 58.1 ارب، سکھر الیکٹرک کو 29.6 ارب اور پشاور الیکٹرک کو 19.7 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ان اداروں کے نقصانات کی بڑی وجہ لائن لاسز، بجلی چوری، ناقص وصولیاں اور فرسودہ انفرا اسٹرکچر ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو برسوں سے دہرائے جا رہے ہیں، مگر حل آج تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔
پاکستان ریلوے کا 26.5 ارب روپے کا خسارہ بھی ایک المیہ ہے۔ جب کے اس کے وزیر بہت اچھا کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا ملک جسے جغرافیائی لحاظ سے ٹرانزٹ ہب بننے کا موقع حاصل ہے، وہاں ریلوے جیسے سستے اور ماحول دوست نظام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر تقرر، پرانی ٹیکنالوجی، ناقص سروس اور سرمایہ کاری کی کمی نے اس ادارے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز، جسے کبھی صنعتی ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا، دانستہ نااہلی سے آج 15.6 ارب روپے کے سالانہ نقصان کے ساتھ محض ایک بوجھ بن چکی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سرکاری ادارے اب صرف مالی نہیں بلکہ پالیسی بحران بھی بن چکے ہیں۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بار بار پاکستان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے سرکاری اداروں کی اصلاح کرے؛ لیکن عمل کروانے پر زور نہیں دیتے ہیں۔ حکومت اشرافیہ مافیا کے ہاتھوں ایسا کچھ نہیں کررہی جس سے یہ اونے پونے بکنے کے بجائے ٹھیک ہوسکیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں کو سیاسی بھرتیوں اور اقربا پروری کا گڑھ بنا دیا گیا ہے۔ انہیں کاروباری اصولوں کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت چلایا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کارکردگی کے بجائے وفاداری معیار بن جاتی ہے، اور ادارے مسلسل خسارے میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔ ان خساروں کی قیمت آخرکار عام پاکستانی کو مہنگائی، ٹیکسوں اور کٹوتیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری اداروں ٹھیک کیا جائے، انہیں جدید خطوط پر استوار کر کے خود مختار، شفاف اور منافع بخش بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کابینہ کمیٹی کی رپورٹ کو محض ایک رسمی دستاویز کے طور پر فائلوں میں دفن نہ کرے، بلکہ اسے عملی اصلاحات کی بنیاد بنائے۔ این ایچ اے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، پاکستان ریلوے اور اسٹیل ملز جیسے اداروں کے لیے واضح روڈ میپ تیار کیا جائے، جس میں مالیاتی نظم و ضبط، اور سخت احتساب شامل ہو۔ اگر آج ہم نے یہ مشکل فیصلے نہ کیے تو کل قومی خزانہ ان اداروں کے بوجھ تلے دب کر رہ جائے گا، اور ترقی، تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمے کے لیے وسائل دستیاب نہیں رہیں گے۔ سرکاری اداروں کی اصلاح محض ایک معاشی ضرورت نہیں، بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرکاری اداروں کی ارب روپے کے اداروں کے مالی سال کے بجائے یہ ہے کہ محض ایک کیا جا
پڑھیں:
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کے اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔
مزید پڑھیںسونے کی قیمت میں بڑی کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے
سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے ہوگئی۔
دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 94 روپے کے اضافے سے 8153 روپے ہوگئی۔