سہیل آفریدی کی مزارِ قائد پر حاضری؛ ’سندھ حکومت نے ٹوپی اور اجرک کی بے حرمتی کی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اثاثوں کے بعد اب عدلیہ کو بھی فروخت کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پیر کو کراچی میں مزارِقائد پر حاضری دی اور پھول رکھ کر فاتحہ خوانی کی۔ ان کے ہمراہ سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔مزارقائد پر حاضری کے بعد سہیل آفریدی سندھ ہائی کورٹ پہنچے، جہاں انہیں صدر سندھ ہائی کورٹ بار نے خوش آمدید کہا اور سندھی ٹوپی اور اجرک کا تحفہ پیش کیا۔کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے اور انصاف کے نظام کی بے حرمتی کا الزام عائد کیا۔کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت قومی اثاثے فروخت کر چکی ہے اور اب انصاف بھی برائے فروخت بنا دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھتے تھے، مگر اب عدالتی احکامات کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، مگر جیل سپرنٹنڈنٹ نے ان احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ذات کی نہیں بلکہ عدلیہ اور وکالت کے پیشے کی بے حرمتی ہے۔وزیراعلیٰ نے سندھ حکومت کے رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اجرک اور سندھی ٹوپی کی بھی بے حرمتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کا دل بہت بڑا ہے اور وہ کراچی کے عوام کے بے حد مشکور ہیں۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس کو خطوط لکھے، مگر نہ ملاقات ہوئی اور نہ ہی خط کا جواب دیا گیا۔ ان کے مطابق جب دیوار سے لگا دیا جائے تو پھر احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا، اور آئین و قانون احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا لیڈر جیل میں ہے اور وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے، وہ اپنے لیڈر سے ملاقات کرنا چاہتے تھے مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وکلا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر وکلا کھڑے نہیں ہوں گے تو عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا نکلیں.
قبل ازیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پیر کو کراچی میں مزارِقائد پر حاضری دی اور پھول رکھ کر فاتحہ خوانی کی۔ ان کے ہمراہ سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔
دریں اثنا کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہیں سخت سوالات پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ غلط سوالات کا بھی جواب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تنظیم کی جانب سے بہت اچھے پروگرام منعقد کیے گئے، جس پر وہ پارٹی کے منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ سندھ کے عوام سب کو عزت دیتے ہیں اور ان کا دل بہت بڑا ہے، تاہم سندھ حکومت نے عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اجرک اور سندھی ٹوپی کے مان کو بھی برقرار نہیں رکھا، جو قابل افسوس ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات طے تھی. مگر بعد میں وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پیغام آیا کہ وہ ملاقات نہیں کر سکتے. جس کے بعد ملاقات منسوخ ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے طرزِ عمل سے مایوسی ہوئی ہے اور عوام کے حقِ رائے دہی کا احترام ہر حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سہیل آفریدی نے کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کراچی میں کرتے ہوئے بے حرمتی ہے اور
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔