امریکا ایران میں سائبر حملوں کی تیاری کر رہا ہے: برطانوی اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن/تہران: برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ سائبر کارروائیوں کی تیاریوں میں مصروف ہے، جن کا مقصد ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مبینہ کریک ڈاؤن پر دباؤ بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران میں سیکڑوں مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کے ردِعمل میں ایسے غیر روایتی آپشنز پر غور کر رہی ہے جو براہِ راست فوجی تصادم کے بغیر دباؤ ڈال سکیں۔
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف تشدد پر جوابدہ بنانے کے لیے سائبر آپریشنز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
دی ٹیلی گراف نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مجوزہ سائبر اقدامات تہران کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کے جواب میں زیر غور ہیں۔ ان کارروائیوں کا ہدف ایرانی ریاستی نظام کو تکنیکی اور اطلاعاتی سطح پر نقصان پہنچانا ہو سکتا ہے، تاکہ حکومت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ میں اضافہ کیا جا سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مختلف فوجی اور غیر فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے، تاہم حکام نے اس مرحلے پر براہِ راست فوجی حملے کو قبل از وقت اور خطرناک قرار دیا ہے۔ اسی تناظر میں غیر مہلک اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جن میں سائبر محاذ پر کارروائیاں نمایاں ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز اعلیٰ امریکی حکام صدر ٹرمپ کو ان آپشنز پر تفصیلی بریفنگ دیں گے، جن میں آن لائن حکومت مخالف بیانیے کو تقویت دینا اور ایرانی فوجی و شہری تنصیبات کے خلاف خفیہ سائبر ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اس اہم بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے باعث انٹرنیٹ بلیک آؤٹ تیسرے روز بھی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا بیرونی دنیا سے رابطہ شدید متاثر ہو رہا ہے، سوشل میڈیا اور مواصلاتی پلیٹ فارمز کی بندش سے مظاہرین کی سرگرمیوں پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ادھر امریکی صدر نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک کی خدمات حاصل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایلون مسک اس شعبے میں خاص مہارت رکھتے ہیں اور ان کی کمپنی جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے نمایاں صلاحیت رکھتی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اب روایتی جنگ کے بجائے ڈیجیٹل اور سائبر محاذ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران میں کے خلاف رہی ہے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم