اسلام آباد: شادی کے گھر میں گیس لیکج دھماکے کی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
فوٹو: آئی این پی
اسلام آباد میں گیس لیکیج دھماکے کی انکوائری کمیٹی کا وزارت داخلہ میں اجلاس ہوا، جس میں دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نذر بزدار کی زیر صدارت اجلاس جس میں پرانی گیس پائپ لائنز اور حفاظتی ضوابط پر ضلعی انتظامیہ کے نمائندے نے بریفنگ دی۔
اجلاس میں حفاظتی اقدامات اور آئندہ کی سفارشات پر بھی غور کیا گیا، کمیٹی 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی۔
ذرئع کے مطابق حادثے میں 8 افراد جان بحق ہوئے، 2 زخمیوں کو سی ڈی اے اسپتال جبکہ 6 کو پمز منتقل کیا گیا، زیادہ تر لوگ ملبے تلے دبنے اور جھلسنے سے فوت ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس لیکیج دھماکے کی ابتدائی تحقیقات اور جائے وقوعہ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا، ایمرجنسی سروس کے نمائندے نے ریسکیو آپریشن پر انکوائری کمیٹی کو آگاہ کیا، سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے سیکیورٹی اینگل سے صورتحال پر بریفنگ دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں گیس کے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 6 جبکہ مجموعی طور پر 8 افراد جاں بحق ہوئے۔
حادثے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ نو بیاہتا جوڑے سمیت 6 افراد کی آخری رسومات گزشتہ روز ادا کی گئی تھیں۔
دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے سے 3 گھروں کی چھتیں گر گئیں جبکہ دو ملحقہ گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔