کشمیر اور گلگت بلتستان کے ٹیکس پیئرز کے نام پاکستان کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
ایف بی آر نے آزاد جموں و کشمیر سینٹرل بورڈ آف ریونیو یا گلگت بلتستان کونسل بورڈ آف ریونیو کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل لوگوں کے نام پاکستان کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایف بی آر نے انکم ٹیکس رولز میں ترامیم کردی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف بی آر نے نوٹی فکیشن کے ذریعے انکم ٹیکس رولز 2002ء میں مزید ترامیم کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر سنٹرل بورڈ آف ریونیو یا گلگت بلتستان کونسل بورڈ آف ریونیو کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل لوگوں کے نام پاکستان میں بھی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل کرنے کا طریقہ کارمتعارف کروادیا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق انکم ٹیکس رولز کے رول 8I بی میں ذیلی قاعدہ (9) کو تبدیل کیا گیاہے اور نئی شق کے مطابق آزاد جموں و کشمیر سنٹرل بورڈ آف ریونیو یا گلگت بلتستان کونسل بورڈ آف ریونیو کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل کسی شخص کا نام انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 181 اے کے تحت پاکستان کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں بھی شامل کیا جائے گا بشرطیکہ اس کا عارضی یا مستقل پتہ آزاد جموں و کشمیر یا گلگت بلتستان میں ہو۔
اگر ایسے شخص کے عارضی اور مستقل دونوں پتے پاکستان میں ہوں تو ایک مخصوص طریقہ کار اپنایا جائے گا جس کے تحت متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو، جو شناختی کارڈ میں درج عارضی پتے کی بنیاد پر دائرہ اختیار رکھتا ہو آئیرس (آئی آر آئی ایس) کے ذریعے تحقیق، انکوائری اور متعلقہ شخص سے تحریری یقین دہانی کے بعد اس بات کی تصدیق کرے گا کہ اس کی پاکستان میں کوئی ملازمت یا کاروبار موجود نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر یا گلگت بلتستان کے متعلقہ بورڈ کا کمشنر آئی آ ر آئی ایس کے ذریعے وہاں ملازمت یا واحد کاروبار کی موجودگی کی تصدیق کرے گا۔
مزید یہ کہ اگر کمشنر ان لینڈ ریونیو کو یہ شبہ ہو کہ ایسا شخص انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 114 کے تحت گوشوارہ جمع کرانے کا پابند ہے اور نوٹس کے باوجود گوشوارہ جمع نہیں کراتا، تو اس کا نام سیکشن 181 اے کے تحت ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سے خارج کردیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان بورڈ آف ریونیو انکم ٹیکس کے تحت
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔