وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران مختلف ایکسپورٹرز کمپنیوں کے وکیل راشد انور نےعدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم اور 55 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، مگر اس وقت کاروباری افراد 55 فیصد سے زائد ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

راشد انور نے کہا کہ افسوس ہے کہ لوگ ٹیکس کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں اور بزنس مین دبئی جیسے ممالک میں کاروبار منتقل کر رہے ہیں، جہاں ٹیکس کی شرح کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا 5 سالہ صنعتی پالیسی کا اعلان، سپر ٹیکس میں 3 فیصد کمی

وکیل راشد انور کے مطابق بزنس مین کو نفع چاہیے لیکن یہاں نقصان ہو رہا ہے، اور فی الحال بزنس مین 61 فیصد ٹیکس دے رہا ہے۔

سماعت کے دوران وکیل راشد انور نے عدالت کو بتایا کہ کمرہ عدالت میں گھڑی موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے وقت کا اندازہ نہیں ہو پا رہا اور ویڈیو لنک کا انتظام بھی کیا جائے۔

چیف جسٹس امین الدین نے جواب دیا کہ فی الوقت یہ ممکن نہیں، مگر جلد انتظام ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: سپر ٹیکس کیس: پورے ملک سے پیسہ اکٹھا کرکے ایک مخصوص علاقے میں کیوں خرچ کیا جائے، جسٹس جمال مندوخیل

دوسری جانب مختلف تمباکو کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد نے سگریٹ اور تمباکو مصنوعات پر عائد ٹیکس کی وضاحت پیش کی۔

اعجاز احمد نے بتایا کہ ایک سگریٹ کا پیکٹ 130 روپے میں فروخت ہو رہا ہے تو اس میں سے 98 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق دوسری جانب ایک 48 روپے کے پیکٹ پر40 روپے ٹیکس لیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے سب سیکٹرز پر ٹیکس نہیں لگایا اور ٹیکس کی کلاسیفیکیشن کاروبار پر نہیں بلکہ آمدنی پر ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: سپر ٹیکس کا ایک روپیہ بھی بے گھر افراد کی بحالی پر خرچ نہیں ہوا، وکیل مخدوم علی خان کا دعویٰ

چیف جسٹس امین الدین اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکلا سے مختلف سوالات کیے، جن میں سگریٹ کی درآمد، قانونی اجازت اور صحت کے حوالے سے اشتہارات شامل تھے۔

ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے بھی موقف اختیار کیا کہ تمباکو مصنوعات کے اعداد و شمار ان کے ریکارڈ سے میل نہیں کھاتے۔

پرائیوٹ کمپنیوں کے وکیل عابد شعبان نے بھی اپنے دلائل مکمل کر لیے، جس کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف بی آر جسٹس امین الدین خان جسٹس حسن اظہر رضوی چیف جسٹس سپر ٹیکس سگریٹ صحت عاصمہ حامد قانونی اجازت وفاقی آئینی عدالت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر جسٹس امین الدین خان جسٹس حسن اظہر رضوی چیف جسٹس سپر ٹیکس سگریٹ وفاقی ا ئینی عدالت جسٹس امین الدین چیف جسٹس سپر ٹیکس ٹیکس کی پر ٹیکس رہا ہے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور