ایشیز سیریز میں زیادہ شرابی نوشی کے بعد انگلش کرکٹرز پر کرفیو لگانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے ایشیز سیریز کے دوران انگلش کرکٹرز کی جانب سے کثرت سے شراب نوشی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد کھلاڑیوں پر سخت کرفیو لگانے کا فیصلہ کرلیا جبکہ آئندہ ورلڈکپ کے دوران ٹیم کو سخت نگرانی میں رکھا جائے گا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا میں ایشیز کے دوران انگلش کھلاڑیوں کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویے اور شراب نوشی کی متعدد خبریں منظرِ عام پر آئیں جس کے بعد ای سی بی نے نظم و ضبط سخت کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق سری لنکا میں ہونے والی وائٹ بال سیریز اور ورلڈکپ کے دوران کھلاڑیوں کے لیے واضح کرفیو نافذ ہوگا۔ انگلش میڈیا کا کہنا ہے کہ ایشیز سے قبل وائٹ بال کپتان ہیری بروک نائٹ کلب میں شراب نوشی کے بعد جھگڑے میں ملوث ہوئے جبکہ بین ڈوکیٹ آسٹریلیا کے ایک تفریحی مقام پر زیادہ شراب نوشی کے باعث راستہ بھول گئے تھے۔ ان واقعات نے ٹیم مینجمنٹ اور بورڈ کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیز سیریز میں انگلینڈ کی 1-4 سے ناکامی کے بعد ای سی بی نے ٹیم کے نظم و ضبط اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کی تیاری شروع کردی۔
برطانوی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ای سی بی کے ان سخت فیصلوں کے نتیجے میں انگلینڈ کے سابق کیوی کرکٹر اور موجودہ ہیڈ کوچ برینڈن میک کلم کے عہدہ چھوڑنے کا بھی امکان پیدا ہوگیا، تاہم اس حوالے سے بورڈ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔