Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:41:20 GMT

سول سپر میسی برائے نام، فیصلے پنڈی میں ہورہے: فضل الرحمان

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

سول سپر میسی برائے نام، فیصلے پنڈی میں ہورہے: فضل الرحمان

لاہور:(نیوزڈیسک) سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی کی ہے۔

جے یو آئی ڈیجٹل میڈیا کنونشن میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج کے کنونشن کے انعقاد پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، اس سے پہلے بھی مختلف صوبوں کے کنونشن میں شریک ہوا ہوں ۔

اُنہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں میرا ایک سوال رہا ہے ، کسی بھی میدان میں کہیں نہ کہیں ہماری کمیاں رہی ہیں، خاص طور پر میڈیا کا جو مزاج ، کام اور مختلف پہلو اسلام کے تصادم رہا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضیک کی جاتی ہے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ علامہ دین کی تعلیمات دیتے ہیں کبھی کبھی وہ کام سے تھک کر مزاح بھی کرتے ہیں ،علامہ اکرام کے مزاح کو تنقید بنایا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضیک کی جاتی ہے، اسلام میں لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالا جاتا ہے مگر سوشل میڈیا اور میڈیا منفی انداز سے اِسے دیکھتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ منفی انداز شریعت کے خلاف ہے، خبر کی تصدیق کرو،اگر کوئی شخص آپ کے پاس خبر کے کر آتا ہے تو پہلے اس پہ تحقیق کرو، ہمارا معاشرہ جھوٹی خبر جان بوجھ کر پھیلاتا ہے تا کہ مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہر نوجوان مختلف باتیں کرتا ہے، جو نئی بات آ جائے ہر کوئی اس پکڑ لیتا ہے، جس کی سمجھ میں جو بات آئی اس نے وہ ہی شروع کر دی ، دنیا میں مختلف حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر آزادی کی خاطر ہماری قربانیاں نمایاں ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کا دنیا میں آج جمہوری نظام نہیں ہے ، جس کہ پاس طاقت اور سرمایہ ہے وہ جو چاہے کر رہا ہے،امریکہ جب چاہے کہیں بھی گھس جاتا ہے ، روس بھی اس کے پیچھے ہے،ہمارے ہاں بھی جمہوریت نہیں ہے اس کی جگہ طاقت نے لے رکھی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک برائے نام سے جمہوریت جس میں ڈھونگ ہے،ملک میں کسی صوبے میں کوئی بھی حکومت منتخب حکومت نہیں ،اس بات کا کسی کو کوئی احساس نہیں ، ہم اس کے متاثر ہیں، ہم پہ گزری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، چھبیسویں ترمیم میں ہم نے حکومت سے انتہا مذکرات کیے اور 32 نکات رکھے، ایک سال بھی نئی ترمیم آ گئی، ستائیسویں ترمیم نے بتایا جنگ نظریات کی نہیں اتھارٹی کی ہے۔

سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ سول سپر میسی ایک نام رہ گیا ہے اب فیصلے پنڈی میں ہورہے، ہماری عوام اس سے لاعلم ہے، علما پہ فتوے لگانا یہ کون لوگ جو اس طرح کے فتوے لگاتے ہیں ،ان لوگوں نے جھوٹی احادیث گھڑ رکھی ہیں ،یہ ضعیف احادیث بیان کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یو ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی

گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔ 

ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔ 

ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم