Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:35:29 GMT

سول سپر میسی برائے نام، فیصلے پنڈی میں ہورہے: فضل الرحمان

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

سول سپر میسی برائے نام، فیصلے پنڈی میں ہورہے: فضل الرحمان

لاہور:(نیوزڈیسک) سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی کی ہے۔

جے یو آئی ڈیجٹل میڈیا کنونشن میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج کے کنونشن کے انعقاد پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، اس سے پہلے بھی مختلف صوبوں کے کنونشن میں شریک ہوا ہوں ۔

اُنہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں میرا ایک سوال رہا ہے ، کسی بھی میدان میں کہیں نہ کہیں ہماری کمیاں رہی ہیں، خاص طور پر میڈیا کا جو مزاج ، کام اور مختلف پہلو اسلام کے تصادم رہا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضیک کی جاتی ہے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ علامہ دین کی تعلیمات دیتے ہیں کبھی کبھی وہ کام سے تھک کر مزاح بھی کرتے ہیں ،علامہ اکرام کے مزاح کو تنقید بنایا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضیک کی جاتی ہے، اسلام میں لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالا جاتا ہے مگر سوشل میڈیا اور میڈیا منفی انداز سے اِسے دیکھتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ منفی انداز شریعت کے خلاف ہے، خبر کی تصدیق کرو،اگر کوئی شخص آپ کے پاس خبر کے کر آتا ہے تو پہلے اس پہ تحقیق کرو، ہمارا معاشرہ جھوٹی خبر جان بوجھ کر پھیلاتا ہے تا کہ مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہر نوجوان مختلف باتیں کرتا ہے، جو نئی بات آ جائے ہر کوئی اس پکڑ لیتا ہے، جس کی سمجھ میں جو بات آئی اس نے وہ ہی شروع کر دی ، دنیا میں مختلف حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر آزادی کی خاطر ہماری قربانیاں نمایاں ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کا دنیا میں آج جمہوری نظام نہیں ہے ، جس کہ پاس طاقت اور سرمایہ ہے وہ جو چاہے کر رہا ہے،امریکہ جب چاہے کہیں بھی گھس جاتا ہے ، روس بھی اس کے پیچھے ہے،ہمارے ہاں بھی جمہوریت نہیں ہے اس کی جگہ طاقت نے لے رکھی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک برائے نام سے جمہوریت جس میں ڈھونگ ہے،ملک میں کسی صوبے میں کوئی بھی حکومت منتخب حکومت نہیں ،اس بات کا کسی کو کوئی احساس نہیں ، ہم اس کے متاثر ہیں، ہم پہ گزری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، چھبیسویں ترمیم میں ہم نے حکومت سے انتہا مذکرات کیے اور 32 نکات رکھے، ایک سال بھی نئی ترمیم آ گئی، ستائیسویں ترمیم نے بتایا جنگ نظریات کی نہیں اتھارٹی کی ہے۔

سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ سول سپر میسی ایک نام رہ گیا ہے اب فیصلے پنڈی میں ہورہے، ہماری عوام اس سے لاعلم ہے، علما پہ فتوے لگانا یہ کون لوگ جو اس طرح کے فتوے لگاتے ہیں ،ان لوگوں نے جھوٹی احادیث گھڑ رکھی ہیں ،یہ ضعیف احادیث بیان کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یو ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی