آئی ایس آراو کا خلائی مشن پھر ناکام،بھارت کی کمزور ٹیکنالوجی خطے اور عالمی توازن کےلئے خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دہلی: بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (آئی ایس آر او) کا راکٹ ناکام ہو گیا جس کے ذریعے 16 سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جا رہے تھے۔ راکٹ لانچ کے تیسرے مرحلے میں تکنیکی خرابی پیش آئی۔
آئی ایس آر او نے لانچ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پی ایس ایل وی-سی62 مشن کو پی ایس3 مرحلے کے اختتام پر خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث مشن مکمل نہ ہو سکا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تفصیلی تجزیہ شروع کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 18 مئی کو بھی مشن کو تیسرے مرحلے کی خرابی کے باعث ناکامی کی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ یہ ناکامی بھارت کے خلائی پروگرام میں بڑھتی ہوئی کمزوریوں کا تسلسل ہے۔ خلائی مشنز میں بار بار ناکامی سے بھارت کی اسٹریٹجک ٹیکنالوجی پر خطرناک سوالات اٹھ گئے۔ بھارت کی کمزور ٹیکنالوجی پورے خطے اور عالمی توازن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ناکام راکٹ میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی بھارت کے اگنی میزائل پروگرام سے بھی جڑی ہوئی ہے جو سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔ اگر اسی ٹیکنالوجی کا حامل اگنی میزائل اصل ہدف کے بجائے کسی اور ملک میں جا گرے تو جوابی کارروائی تباہی کن ہوسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔