ٹرمپ کا ایران کے اپوزیشن لیڈرز سے رابطوں کا دعویٰ؛ یہ رہنما کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ایران میں دسمبر کے اواخر سے مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں نے عالمگیر شہرت حاصل کرلی ہے جس میں درجنوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مظاہرے 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران میں برسراقتدار مذہبی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئے ہیں۔
ان مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں اگرچہ سرکاری اور اپوزیشن اعداد و شمار میں واضح فرق ہے۔
ایسے میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ایران کی اپوزیشن جماعتیں کون کون سی ہیں اور ان مظاہروں میں کیا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایران کی سیاست سے بخوبی واقف ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس وقت ایک منظم اور متحد اپوزیشن کا سامنا نہیں بلکہ مختلف نظریات، پس منظر اور اہداف رکھنے والے بکھرے ہوئے گروہ موجود ہیں۔
حالیہ مظاہروں میں جہاں کچھ اپوزیشن جماعتیں ایران کے اندر سرگرم ہیں جب کہ کئی جلاوطن رہنما بیرونِ ملک سے اپنی آواز ملا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران، یورپ اور امریکا میں مقیم ایرانی تارکینِ وطن نے حالیہ مظاہروں کے حق میں برلن، لندن اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔
ایران کی نمایاں اپوزیشن جماعتیں اور رہنما
ایران کے سابق بادشاہ واحد ولی عہد رضا پہلوی اس وقت امریکا میں جلاوطن ہیں وہ ایران کے معزول بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے ہیں۔
رضا پہلوی ’’ایران نیشنل کونسل‘‘ نامی پلیٹ فارم سے ایک سیکولر اور جمہوری نظام کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کی بحالی کے بجائے ریفرنڈم کے ذریعے نظام کے تعین کے حامی ہیں۔
انھیں ایرانی تارکینِ وطن اور کچھ نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم بائیں بازو اور جمہوری ریپبلکن حلقے ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی کے پاس ایران کے اندر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔
مجاہدینِ خلق اور مریم رجوی
ایران کی ایک اور توانا اپوزیشن آواز مجاہدینِ خلق تنظیم ہے جو ایک زمانے میں طاقتور بائیں بازو کی مسلح تنظیم تھی اور جس نے شاہِ ایران محمد رضا پہلوی اور امریکی مفادات کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔
تاہم ایران-عراق جنگ میں عراق کا ساتھ دینے کے باعث یہ تنظیم ایران میں انتہائی تیزی سے غیرمقبول ہوتی چلی گئی تھی۔
اس تنظیم کی قیادت اس وقت مریم رجوی کے ہاتھ میں ہے جو ایران سے جلا وطن ہیں۔ اس وقت فرانس اور یورپ سے سرگرم ہیں۔
البتہ انسانی حقوق کے ادارے اس تنظیم پر فرقہ ورانہ اور آمرانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کے کے الزامات لگاتے ہیں۔
سیکولر جمہوری اتحاد
سخت گیر مذہبی حکومت اور کڑی پابندیوں کے باوجود 2023 میں بیرونِ ملک قائم ہونے والا ’’سیکولر جمہوری اتحاد‘‘ تیزی سے ایران میں مقبول ہوئی ہے۔
جس نے مذہب اور ریاست کو دو الگ الگ معاملات قرار دیتے ہوئے دونوں کو علیحدہ کرنے کا مقبول بیانیہ قائم کیا ہے۔
علا وہ ازیں اس جماعت کے دیگر مطالبات میں آزاد انتخابات اور آزاد عدلیہ کا قیام بھی ہے جس کا مطالبہ بڑی تعداد میں سامنے آتا رہا ہے۔
یہ اتحاد ترک لڑکی مہسا امینی کی زیر حراست مبینہ ہلاکت پر جنم لینے والی عوامی تحریک کے دوران نمایاں ہوا تاہم ایران کے اندر اسے وسیع عوامی حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔
کرد اور بلوچ اقلیتیں
ایران میں آباد کرد اور بلوچ سنی اقلیتوں کی طویل عرصے سے حکومت کے ساتھ کشیدگی کا شکار رہی ہیں لیکن سخت مزاحمت جاری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کے کرد علاقوں اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں حالیہ مظاہرے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ شدت اختیار کرگئے ہیں۔
اگرچہ ان علاقوں میں بھی حکومت مخالف جذبات مضبوط ہیں مگر یہاں بھی کوئی واحد متحد قیادت موجود نہیں۔ بعض بلوچ علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
یاد ہے کہ امریکی صدر نے ایران پر بڑی فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔
تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس اپوزیشن جماعت یا رہنما کے ساتھ رابطے میں البتہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کا اشارہ امریکا میں مقیم جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کی جانب ہے۔
عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی رضا پہلوی کو غیر معمولی مقبولیت ملی ہے۔ ایکس (سابق ٹوئٹر) نے ایران کے قومی پرچم کی ایموجی میں تبدیلی کردی۔
ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایرانی پرچم کی ایموجی میں سے موجودہ حکومت کی علامت ہٹا کر پہلوی خاندان کی بادشاہت کے دور کی علامت لگادی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران میں رضا پہلوی ایران کی ایران کے
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم