ایران میں حکومت کے حامی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے،نظام اور قیادت پر حمایت کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران میں حالیہ واقعات کے بعد پیر کے روز ملک بھر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ تہران سمیت مختلف صوبوں میں عوام کے مختلف طبقات نے مبینہ غیر ملکی حمایت یافتہ ہنگاموں اور دہشت گردی کے خلاف ملک گیر ریلیوں میں شرکت کی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے نظام اور قیادت سے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو تہران سمیت بیشتر صوبوں میں دوپہرکے اوقات میں ریلیوں کا آغاز ہوا، جب کہ بعض صوبوں میں مظاہرے صبح 9 اور 11 بجے ہی شروع ہو گئے تھے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی تصاویرمیں مظاہرین کو تہران کے انقلاب اسکوائر کی جانب مارچ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔
سرکاری حکام نے ان ملک گیر مظاہروں کو دشمن کی جانب سے انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی سازشوں کے مقابلے میں قومی اتحاد اور یک جہتی کا ناقابلِ تردید ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرائے کے عناصر اور دہشت گردوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق، گزشتہ ماہ بعض شہروں میں دکانداروں نے معاشی مشکلات کے خلاف پُرامن احتجاج کیا تھا، لیکن امریکی اور صیہونی حکام کے بیانات اور اسرائیل سے منسلک فارسی زبان کے میڈیا کی حوصلہ افزائی نے ان مظاہروں کو تشدد اور توڑ پھوڑ کی جانب دھکیل دیا۔
ایرانی حکام نے عوام کے معاشی مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان مسائل کو حل کیا جائے گا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عوامی مشکلات کو غیر ملکی عناصر نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
حکام کے مطابق یہ معاشی دباؤ براہِ راست امریکا کی یک طرفہ پابندیوں، خاص طور پر مرکزی بینک اور تیل کی برآمدات کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بدامنی کے ذمہ دار عناصر کو امریکا اور اسرائیلی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حال ہی میں ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی حمایت کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ ’’پُرامن مظاہرین‘‘ کو نقصان پہنچا تو امریکا ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تاہم سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے موساد کی مبینہ مداخلت اور علیحدگی پسند منصوبوں کی جانب اشارہ کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی جانب
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔