نیپرا نے ملک بھر میں بجلی کے بنیادی ٹیرف کی حکومتی درخواست منظور کرلی، نیا ٹیرف یکم جنوری سے نافذ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں بجلی کے بنیادی ٹیرف کی حکومتی درخواست منظور کرلی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپرا کی جانب سے منظور کردہ اس درخواست کے تحت کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھا جائے گا۔
نیپرا نے بجلی کے بنیادی ٹیرف پر فیصلہ وفاقی حکومت کو بھیج دیا ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کے نئے ٹیرف کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے ہوگا، جس کے تحت مختلف کیٹیگریز کے صارفین کے لیے ٹیرف کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا زیادہ ٹیرف 47.
حکومت کی جانب سے نیپرا کو بھیجی گئی یکساں ٹیرف کی درخواست پر نیپرا نے آج ہی سماعت کی اور اس کے بعد اس فیصلے کو منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے بجلی کے نئے ٹیرف کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ عوامی سطح پر مختلف سوالات کو جنم دے رہا ہے، خصوصاً گھریلو صارفین کے لیے ٹیرف میں اضافے کے حوالے سے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں توانائی کے شعبے میں استحکام لانے اور بجلی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صارفین کے لیے بنیادی ٹیرف برقرار رکھا کی جانب سے بجلی کے ٹیرف کی گیا ہے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔