کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
بلوچستان کے سرکاری ملازمین کے اتحاد گرینڈ الائنس نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔
اس سلسلے میں سرکاری ملازمین نے خضدار، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، ڈیرہ مراد جمالی، نوشکی اور لسبیلہ میں علامتی طور پر قومی شاہراہیں 2 گھنٹے کے لیے بند کیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی ممکنہ نجکاری، ملازمین کا شدید احتجاج، فضائی آپریشن معطل کرنے کی دھمکی
گرینڈ الائنس کے مطابق احتجاجی تحریک مرحلہ وار جاری رہے گی۔ اعلان کے تحت 13 جنوری کو قلات، پشین، لورالائی، دالبندین، تربت اور پسنی جبکہ 14 جنوری کو ڈیرہ اللہ یار، حب، خاران، ژوب، گوادر، چمن اور رکنی میں بھی قومی شاہراہوں کی علامتی بندش کی جائے گی۔
الائنس نے واضح کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 15 جنوری کو صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے گا اور تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس نے مزید کہاکہ 20 جنوری کو صوبے بھر سے سرکاری ملازمین کوئٹہ میں ریڈ زون کے باہر غیر معینہ مدت کے لیے احتجاجی دھرنا دیں گے، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
گرینڈ الائنس کا بنیادی مطالبہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو وفاقی طرز پر فوری طور پر 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے۔ اس کے علاوہ سرکاری محکموں کی نجکاری، پینشن اصلاحات کے نفاذ کے خاتمے، کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کے اختتام اور دیگر انتظامی امور سے متعلق نکات بھی مطالبات میں شامل ہیں۔
احتجاجی مظاہروں کے باعث مختلف علاقوں میں شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کوئٹہ میٹروپولیٹن کے ملازمین کا احتجاج، دھرنے کا اعلان
گرینڈ الائنس نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احتجاجی تحریک بلوچستان دوسرا مرحلہ سرکاری ملازمین لاک ڈاؤن کا اعلان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احتجاجی تحریک بلوچستان دوسرا مرحلہ سرکاری ملازمین وی نیوز سرکاری ملازمین احتجاجی تحریک گرینڈ الائنس الائنس نے جنوری کو
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔