کسی سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا یا نکالنا حکومت کی صوابدید ہے، آئینی عدالت
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ حکومت کی صوابدید ہے کہ کسی سیکٹرکو ٹیکس میں شامل کرے یا نکال دے۔
آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے صوبائی محکمے کو معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دینے کی تائید کر دی۔
گزشتہ روز سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران درخواستگزار وکیل نے کہا کمرہ عدالت میں گھڑی نہیں جس کے باعث وقت کا اندازہ نہیں ہو تا، ویڈیو لنک کا انتظام بھی کیا جائے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا ابھی کچھ چیزیں مکمل نہیں ،جلد مکمل ہو جائیں گی۔ایکسپورٹر کمپنی کے وکیل راشد انور نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ 15 فیصد سے کم اور55 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا۔
اس وقت 55 فیصد سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ، افسوس زیادہ ٹیکس کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ رہے، تاجر دبئی جیسے شہروں میں کاروبار شفٹ کررہا ہے جہاں شرح ٹیکس کم ہے۔
وکیل اعجاز احمد نے کہا سگریٹ کی130 روپے کی ڈبی پر98 روپے ٹیکس وصول ہو رہا ہے ،48 روپے کے پیکٹ پر40 روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
ایف بی آرکی وکیل عاصمہ حامد نے کہا جو اعدادو شمار بتائے جا رہے، ریکارڈ پر نہیں ،حکومت نے تمام سیکٹرز پر ٹیکس نہیں لگایا۔
جسٹس امین الدین نے کہا حکومت کی صوابدید ہے کسی سیکٹرکو ٹیکس میں شامل کرے یا نکال دے۔وکیل ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس کی کلاسیفیکیشن کاروبار پر نہیں انکم پر لگنی چاہیے۔
سماعت آج دوبارہ ہوگی۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے اس اعتراض پر فیصلہ دیا کہ ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم کا بلوچستان اسمبلی کو اختیار حاصل ہے کہ نہیں۔
درخواست گزار اٹک سیمنٹ نے بلوچستان کے ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کے اختیار کے خلاف درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار ہے، بلوچستان اسمبلی کے پاس1967 کے ایکٹ میں ترمیم کا اختیار نہیں، خصوصاً جب ترمیم سے ایکسائز ڈیوٹی کی نوعیت تبدیل ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایکسائز ڈیوٹی ٹیکس وصول نے کہا
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔