لوگ ٹیکس زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ رہے ہیں، سپر ٹیکس کیس میں وکیل کے دلائل
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران کمپنیوں کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لوگ زیادہ ٹیکس ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ رہے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس کیسز کی سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران مختلف ایکسپورٹرز کمپنیوں کے وکیل راشد انور نے اپنے دلائل مکمل کیے جب کہ مختلف تمباکو کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد نے بھی عدالت میں اپنے دلائل پیش کر کے مکمل کر لیے۔
دوران سماعت وکیل راشد انور نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ 15 فیصد سے کم اور 55 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا جبکہ اس وقت 55 فیصد سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ لوگ ٹیکس کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ بزنس مین دبئی جیسے شہروں میں اپنا کاروبار منتقل کر رہے ہیں جہاں ٹیکس کی شرح کم ہے۔
وکیل راشد انور نے کہا کہ بزنس مین کو نفع چاہیے ہوتا ہے لیکن یہاں نقصان ہو رہا ہے ۔ اس وقت بزنس مین 61 فیصد ٹیکس دے رہا ہے۔
سماعت کے دوران تمباکو کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سگریٹ کی ایک ڈبی 130 روپے میں فروخت ہو رہی ہے تو اس میں سے 98 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ ایک سگریٹ کا پیکٹ 48 روپے میں فروخت ہونے پر 40 روپے ٹیکس لیا جاتا ہے۔ اس پر ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ ان کی جانب سے جو اعداد و شمار بتائے جا رہے ہیں وہ ایف بی آر کے ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔
وکیل اعجاز احمد نے کہا کہ حکومت نے تمام سب سیکٹرز پر ٹیکس نہیں لگایا بلکہ کچھ پر عائد کیا گیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ یہ گورنمنٹ کی صوابدید ہے کہ وہ کسی سیکٹر کو ٹیکس میں شامل کرے یا نکال دے، جس سے وکیل اعجاز احمد نے اتفاق کیا۔ انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس کی کلاسیفیکیشن کاروبار کے بجائے انکم پر ہونی چاہیے، تاہم چیف جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر صرف انکم پر ٹیکس لگایا جائے تو پھر کسی کی کلاسیفیکیشن ممکن نہیں رہے گی۔
سماعت کے دوران وکیل اعجاز احمد نے کہا کہ سگریٹ باہر سے اسمگل ہو کر بھی آتا ہے جو پاکستان میں بننے والے سگریٹ کے مقابلے میں سستا ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ جو سگریٹ باہر سے امپورٹ ہو کر آتا ہوگا اس کا پتا تو چل جاتا ہوگا۔ وکیل اعجاز احمد نے کہا کہ پاکستان میں بننے والے سگریٹ کے پیکٹ پر صحت سے متعلق اشتہار ہوتا ہے۔
چیف جسٹس امین الدین نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں قانونی طور پر سگریٹ امپورٹ کرنے کی اجازت ہے، جس پر وکیل اعجاز احمد نے جواب دیا کہ اجازت تو ہے مگر ان کے علم کے مطابق ابھی تک سگریٹ امپورٹ نہیں ہوئی۔ اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سوالات سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ہم میں سے کوئی سگریٹ نوشی نہیں کرتا۔
عدالت میں تمباکو کمپنیوں کے وکیل اعجاز احمد کے دلائل مکمل ہونے پر پرائیویٹ کمپنیوں کے وکیل عابد شعبان نے بھی اپنے دلائل مکمل کر لیے، جس کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس امین الدین نے وکیل اعجاز احمد نے کمپنیوں کے وکیل سماعت کے دوران سپر ٹیکس نے دلائل پر ٹیکس رہے ہیں ٹیکس کی کیا کہ رہا ہے
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔