data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کا دل محبت سے تو جیتا جا سکتا ہے لیکن جبر اور زور زبردستی کے ذریعے ا نہیں فتح نہیں کیا جا سکتا،بلوچستان کے لوگ اپنے بچوں کے لیے تعلیم،روزگار اور امن مانگتے ہیں،حکمران بلوچستان سے لیتے سب کچھ ہیں لیکن دیتے کچھ نہیں،
بلوچستان میں آج بدترین ڈکٹیٹر شپ قائم ہے،اسلام آباد کے حکمران ظلم و جبر کے ذریعے بلوچستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ہم انہیں ایسا ہر گز نہیں کرنے دیں گے، جمہوری جدو جہد ہمارا راستہ ہے، بلوچستان کے عوام کو جینے کا حق دیا جائے، گالی و گولی ہماری پر امن جدو جہد کو نہیں روک سکتی،بلوچستان کے مستقبل کو خطرات لاحق ہیں، جماعت اسلامی نے مینار پاکستان کے اجتماع عام میں بلوچستان کا مسئلہ اْٹھایا، سوائے جماعت اسلامی کے کسی اور جماعت کی قیادت بلوچستان نہیں گئی، حافظ نعیم الرحمن نے ایک سال میں بلوچستان کے 4 دورے کیے، بلوچستان کے مسائل پر جماعت اسلامی مشاورت سے آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر احتجاج کرے گی،اسلام آباد کے اصل اور جعلی حکمرانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ خدارا بلوچستان کے عوام پر مظالم بند کریں، انہیں آئینی حقوق، تعلیم و صحت کی سہولتیں اور روزگار فراہم کیے جائیں، یہاں کے نوجوانوں پر رحم کریں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال ہے لیکن بلوچستان کا شمار ملک کے پسماندہ صوبے میں ہوتا ہے،بلوچستان میں ایک ہی تالاب میں انسان اور جانور پانی پیتے ہیں، ہماری مائیں اور بہنیں کراچی میں سول اور جناح اسپتال کی فٹ پاتھ پر بیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ بلوچستان میں صحت کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، بلوچستان کے لوگوں کو پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے،بانی پاکستان قائد اعظم اور ان کی بہن فاطمہ جناح کو بلوچستان نے عزت دی، بانی پاکستان کی وفات کے بعد بلوچستان میں آپریشن شروع کردیا گیا جو آج تک جارہی ہے۔ہدایت الرحمن نے کہاکہ جن کے پیارے لاپتا کرکے مار دیئے گئے وہ دہشت گرد نہیں ہیں،ماہ رنگ بھی دہشت گرد نہیں ہے،سی پیک سے حکومت نے ایک بھی موٹر وے نہیں بنائی، اگر مودی دہلی سے بیٹھ بلوچستان کے نوجوانوں کو پیسے دے رہا ہے تو اسلام آباد سے بیٹھ کر شہباز شریف پیسے کیوں نہیں دے سکتے،بلوچستان کو عزت چاہیے، وہاں کے عوام غلام نہیں سچے پاکستانی ہیں اس کی مثال یہ ہے جب ملک دو لخت ہوا تو کوئی بلوچستان کا شہری اس میں ملوث نہیں تھا اور جو ملوث تھے ان کو حکومتیں دی گئیں، بلوچستان کی بربادی کے ذمے دار وہاں کے سردار بھی ہیں اور سیاست دان بھی ہیں اور ساتھ میں وہ بھی ہیں جن کو ہم سالانہ 80 ارب روپے دیتے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن نے بلوچستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 46 فیصد نوجوان یعنی 18 لاکھ یو تھ کسی قسم کے روز گار یا تعلیمی سرگرمی کا حصہ نہیں ہیں۔صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 65 فیصد بچے یعنی صوبے کے ہر 3 میں سے 2 بچے اسکول سے باہر ہیں جن کی تعداد 1 3لاکھ سے زاید ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں 64 فیصد بچیاں ہیں۔ظلم اور محرومیت کی انتہا ہے کہ بلوچستان میں 5 سال کی عمر سے اوپر کل آبادی میں سے 62 فیصد افراد ایسے ہیں جنہوں نے کسی قسم کی کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔صوبے کی 21 فیصد آبادی بے روز گار ہے۔41 فیصد مرد و خواتین بغیر کسی رسمی اجرت کے فیملی ہیلپرز کے طور پر کام کرتے ہیں،صوبے میں کل 15168 اسکولوں میں سے 22 فیصد یعنی 13336 اسکول غیر فعال ہیں جبکہ 1817 اسکول شیلٹر کے بغیر ہیں۔ 59 فیصد آبادی کے گھروں میں پانی کی سہولت موجود نہیں ہے یعنی وہ باہر سے پانی لاتے ہیں۔صوبے کا 80 فیصد ایریا ’’بی‘‘ کہلاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں پولیس رولز لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ 64 فیصد گھرانے کچے ہیں۔ 58 فیصد گھروں کی چھت لکڑی اور بانس کی ہیں اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کی نشانی سمجھے جانے والی RCC اور RBC(لینٹر چھت) پورے صوبے میں محض 7 فیصد ہیں۔سوئی گیس کی سہولت محض 18 فیصد آبادی کو میسر ہے، ایل پی جی گیس سلنڈر جس کو عام طور پر ایک معاشی استحکام سمجھا جاتا ہے ، اس کو استعمال کرنے والے گھرانوں کی تعداد محض 3.

27 فیصد ہے جبکہ 70 فیصد گھرانے ایندھن کے طور لکڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ 15 فیصد گھرانوں میں کچن، 13 فیصد میں باتھ روم اور 23 فیصد گھرانوں میں ٹوائلٹ موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری 2023ء کے مطابق بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ 49لاکھ جس میں نوجوان آبادی 39لا کھ سے زاید ہے۔ 76 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے، بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کا کل رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو ملک کے مجموعی زمینی رقبے کا تقریباً 44 فیصد بنتا ہے۔ بلوچستان پاکستان کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے اور بحیرہ عرب کی جانب 770 کلو میٹر لمبی ساحلی پٹی کاہے اور سی پیک میں اہم ترین اہمیت کا حامل صوبہ ہے،پاکستان کا واحد صوبہ جس کا بارڈر دو ممالک کے ساتھ لگتا ہے۔ 9 اضلاع کی سرحد افغانستان اور 5 کا بارڈر ایران کے ساتھ ملتا ہے۔ 7 دریاؤں اور 6 جھیلوں کا صوبہ ہے‘صوبے میں ایک ہزار ارب ڈالر سے زاید کی معدنیات ہیں۔کوئلے کے ذخائر 185 ارب ٹن سے زاید جبکہ 200 ملین ٹن سونے اور کاپر کے ذخائر ہیں۔صرف ریکوڈک کے کاپر ذخائر 5.87 ارب ٹن اور 42 ملین اونس گولڈ کے ذخائر ہیں۔سیندک کے کا پر ذخائر 412 ملین ٹن۔دشت کین کا پر ذخائر 400 ملین ٹن ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں قائم گوادر بندرگاہ جو بحیرہ عرب کے ساحل پر، آبنائے ہر مز اور خلیج فارس کے دہانے کے قریب ایک انتہائی اسٹریٹجک مقام پر بنی ہے۔ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اسے خطے کی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الا قوامی شپنگ کے لیے نہایت اہم بنادیتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) میں مرکزی حیثیت رکھنے والی یہ گہرے پانی کی بندرگاہ پاکستان کو خطے کی تجارت میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ خلیج فارس، وسطی ایشیا اور توانائی سے بھرپور کا سپین خطے کے ساتھ تجارتی روابط کے لیے ایک اہم راہ گزر کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ گوادر مستقبل میں بین الا قوامی تجارت، آئل و گیس ٹرانس شپمنٹ اور بحری سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز بنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پاکستان کی معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

اسٹاف رپورٹر

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلوچستان کے عوام بلوچستان میں ہدایت الرحمن جماعت اسلامی کہ بلوچستان فیصد ا بادی الرحمن نے سے زاید

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن