مودی نے یاسین ملک پر ہاتھ ڈالا تو بھارت نہیں رہے گا‘مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ سن لے یاسین ملک پر ہاتھ ڈالا تو دنیا کے نقشے پر بھارت نہیں رہے گا، اویسی صاحب کا بیان آیا تھا لیکن یاد رکھو پاکستان نہ تو وینزویلا ہے اور نہ بھارت امریکا ہے۔ان خیالات کا اطہار انہوں نے عوامی رابطہ مہم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مشعال ملک کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو قتل کیا گیا، لاکھوں عورتوں کو بیوہ اور ان کی عزتوں کو تار تار کیا گیا، یہ ظلم دنیا میں کہیں نظر نہیں آئے گا، کشمیر کی تحریک آزادی پوری دنیا کے امن کی چابی ہے، ظلم کے سارے ریکارڈ بھارتی آرمی نے توڑ دیے ہیں، پہلگام سمیت بھارت کی دہشت گردی اب مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ را نے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کی ہے، بھارت اتنا ڈرپوک ہے کہ کھل کر سامنے نہیں آسکتا، مودی اور اجیت ڈوول کو چیلنج ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے چوک چوراہے پر کھڑے ہو کر دیکھو تمھارا جو استقبال ہونا ہے وہ یاد رکھو گے،یاسین ملک نے پوری دنیا میںمسلح جدوجہد کا آغاز کیا ہے، 30 سال بعد کشمیر کی عدالت نے ان کو جعلی دہشت گردی کے کیس میں سزا سنائی، میرا شوہر غازی ہے وہ تمنا کر رہا یے کہ اسے شہادت کی موت ملے۔ مشعال ملک نے کہا کہ مودی اور ڈوول اپنے محلوں سے باہر نکلو، یسین ملک اور کشمیر تحریک اور پاکستان کا نام آتا ہے تو تمھارے پاؤں کانپتے ہیں، اگر بھارت کو بچانا ہے تو یاسین ملک کو بچاؤ، وہ اللہ کا سپاہی ہے، معرکہ حق میں بھارت کو بدترین شکست ملی ہے، 25 کروڑ عوام کشمیریوں کی آزادی کے لیے تیار ہے، ہمارے قیدی مجاہدوں سے بھارت کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔
راولپنڈی،حریت رہنما مشعال ملک بھارت کی قید میں موجود یاسین ملک کی رہائی کے لیے مظاہرین سے خطاب کررہی ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یاسین ملک مشعال ملک
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔