ستھرا پنجاب اتھارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ تیار، یکم فروری کو فعال ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-08-29
لاہور (نمائندہ جسارت) ستھرا پنجاب اتھارٹی نے صوبہ بھر میں صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اتھارٹی اور اس کے ماتحت ایجنسیز کا مکمل تنظیمی ڈھانچہ تیار کر لیا۔لاہور سمیت صوبے کی تمام سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو 31 جنوری 2026 ء تک مکمل طور پر غیر فعال کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی اور صوبے کے 41 اضلاع میں قائم ایجنسیز کو یکم فروری 2026 سے باقاعدہ طور پر فعال کر دیا جائے گا، جبکہ اسی روز سالڈ ویسٹ ایجنسیز کو ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کر دیا جائے گا۔تنظیمی ڈھانچے کے تحت ستھرا پنجاب اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی سیٹ کو فعال کیا گیا ہے، جبکہ 3 ایڈیشنل ڈی جی، 17 ڈائریکٹرز، 16 ڈپٹی ڈائریکٹرز اور 38 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز تعینات کئے جائیں گے۔اسی طرح صوبہ بھر میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ماتحت 41 ایجنسیز کے لیے بھی تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دے دیا گیا ہے، جن میں 41 مینیجنگ ڈائریکٹرز، 41 ڈپٹی ڈائریکٹرز، 205 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور 205 تحصیل مینیجرز تعینات کئے جائیں گے، نان کارپوریٹ سٹاف کے طور پر 2189 فیلڈ مانیٹرنگ افسران جبکہ 41 مانیٹرنگ افسران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی۔انتظامی امور کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ذمے داران سیکرٹری بلدیات پنجاب کے ماتحت ہوں گے، جبکہ اضلاع میں سالڈ ویسٹ کے ذمے داران ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کام کریں گے۔مالی اختیارات کے تحت اتھارٹی کا بجٹ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب منظور کرے گا جبکہ اضلاعی ایجنسیز کا سالانہ بجٹ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی منظوری سے پاس کیا جائے گا، نئے نظام کے نفاذ سے صوبے بھر میں صفائی کے انتظامات مزید مؤثر، شفاف اور مربوط بنائے جا سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ماتحت
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔