data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260113-11-5
پشاور(جسارت نیوز)خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے پشاور میں ایک اہم ملاقات کی اور حلقہ۔ این۔ اے۔30 میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت جاری، مکمل، غیر فعال اور مجوزہ واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے صوبائی وزیر کو اپنے حلقہ۔ این۔ اے۔30 پشاور میں جاری واٹر سپلائی سکیموں کی موجودہ پیش رفت، غیر فعال اور ٹیوب ویلز کی مرمت اور بحالی، اور پانی کی فراہمی کے نظام کو شمسی توانائی (سولرائزیشن) پر منتقل کرنے کی ضرورت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا شاندانہ گلزار نے اس بات پر زور دیا کہ حلقے میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور اس ضمن میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل، غیر فعال سکیموں کی بحالی اور توانائی کے متبادل ذرائع، بالخصوص شمسی نظام، کی جانب منتقلی ناگزیر ہے تاکہ نظام کو پائیدار اور کم خرچ بنایا جا سکے۔اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے رکن قومی اسمبلی کو مسائل کے حل کی مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقے میں جاری تمام واٹر سپلائی سکیموں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا اور ان منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ جن ٹیوب ویلز کو فوری مرمت یا بحالی کی ضرورت ہے، اور جن واٹر سپلائی سکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جانا ہے، ان کے لیے درکار فنڈز پی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے فوراً بعد جاری کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سولرائزیشن کے منصوبوں سے نہ صرف توانائی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ پانی کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔فضل شکور خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ حلقے میں جاری اور مجوزہ سکیموں کی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں، تمام تکنیکی و انتظامی امور بروقت مکمل کریں اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کام کی رفتار مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ شفافیت، مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت تکمیل کے اصولوں پر عمل پیرا ہے تاکہ صوبے بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط اور پائیدار بنایا جا سکے۔ رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے صوبائی وزیر فضل شکورخان کی جانب سے تعاون اور یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے حلقے کے عوام کو جلد ریلیف ملے گا اور پانی کی فراہمی کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔

جسارت نیوز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: واٹر سپلائی سکیموں پانی کی فراہمی کے شاندانہ گلزار نے رکن قومی اسمبلی کہا کہ

پڑھیں:

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ کے دوسرے روز بھی پاکستان کا جادو سر چڑھ کر بولا، قومی ٹیم نے بنگلادیش کو کسی بھی مرحلے پر سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور مسلسل تین سیٹ جیت کر 0-3 سے شاندار فتح اپنے نام کر لی۔

پاکستان نے آغاز سے ہی جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے پہلا سیٹ 16-25 سے جیتا، دوسرے سیٹ میں بھی سبز ہلالی پرچم بلند رکھا اور 17-25 سے کامیابی سمیٹی۔

تیسرے سیٹ میں بنگلادیش نے بھرپور مزاحمت کی، مگر پاکستانی کھلاڑیوں نے اعتماد اور مہارت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 22-25 سے فتح حاصل کی اور میچ بغیر کوئی سیٹ گنوائے تین صفر سے اپنے نام کر لیا۔

قومی ٹیم کی یہ مسلسل دوسری فتح کاوا چیمپئن شپ میں پاکستان کے مضبوط عزائم کا واضح اعلان ہے جبکہ شاندار کارکردگی نے ٹائٹل کی دوڑ میں پاکستان کو مزید مضبوط امیدوار بنا دیا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن