فیلڈ مارشل سے انڈونیشین وزیر کی ملاقات، تعلقات بڑھانے کی خواہش: انڈونیشیا کی جے ایف17 تھنڈر خریداری میں دلچسپی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) آرمی چیف‘ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے ملاقات کی ہے۔ آئی ایس پی آرکے مطابق انڈونیشیا کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جعفری شمس الدین نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے، تربیتی تعاون بڑھانے اور دفاعی صنعت میں شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کو تسلیم کیا، انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیاکہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مختلف شعبوں میں مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کے عزم کو دہرایا کہ وہ انڈونیشیا کے ساتھ مضبوط اور دیرپا دفاعی تعلقات قائم رکھے گا، جو مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور سٹریٹجک مفادات کے اشتراک پر مبنی ہوں گے۔ علاوہ ازیں انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جعفری شمس الدین نے سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر کے حالیہ دور پاکستان کے تسلسل کا ایک اہم جزو ہے جس میں دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین دوطرفہ دفاعی تعاون بالخصوص استعداد سازی، تربیت اور تکنیکی شعبوں میں مزید اضافے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ سربراہ پاک فضائیہ نے پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا جو مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور مضبوط عوامی روابط پر قائم ہیں۔ انہوں نے معزز مہمان کو پاک فضائیہ کی حالیہ جدت طرازی مہم سے آگاہ کرتے ہوئے انفراسٹرکچر کی ترقی، تربیتی نظام کی ازسرِنو تشکیل اور جدید و مخصوص صلاحیتوں کے حصول کے ذریعے جاری جامع منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ ائیر چیف نے مزید بتایا کہ یہ تزویراتی اقدامات عصری جنگی تقاضوں کے مطابق ملٹی ڈومین آپریشنز میں پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری اور تکنیکی برتری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ سربراہ پاک فضائیہ نے ہوابازی کے شعبے میں مشترکہ تربیتی اقدامات، آپریشنل تعاون اور ادارہ جاتی روابط کے تسلسل کے ذریعے فوجی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور جنگی تیاریوں کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے تحت مقامی سطح پر جدت اور خود انحصاری کے ذریعے حاصل کی گئی نمایاں تکنیکی کامیابیوں کی تعریف کی اور اسے ایرو سپیس کے شعبے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی خود کفالت کا مظہر قرار دیا۔ معزز مہمان نے تربیت، ہوابازی اور ایرو سپیس کے شعبوں میں پاک فضائیہ کے ساتھ تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔ انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع اور سربراہ پاک فضائیہ کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی تعلقات میں بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کی عکاس ہے جو دونوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کی توثیق کرتی ہے کہ بہتر تعاون اور روابط کے ذریعے اس دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان اور انڈونیشیا میں جیٹ طیاروں اور ڈرونز سے متعلق دفاعی معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔ انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے پاکستان سے جنگی طیاروں‘ ڈرونز کی خریداری پر بات چیت کی ہے۔ انڈونیشیا نے پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انڈونیشیا نے پاکستان کے تیار کردہ ڈرونز میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انڈونیشیا کے وفد نے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج اور وزارت دفاعی پیداوار کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کو ایک قریبی دوست اور برادر مسلم ملک سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اہم تعاملات نے اعلیٰ پیداواری تعلقات کی رفتار قائم کی ہے۔ دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان دفاعی پیداوار میں تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر رضامندی کا اظہار کیا۔ انڈونیشیا کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جافری شمس الدین نے مشترکہ ورکنگ گروپس کو تیز کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے مستقبل میں تعاون کے دروازے کھلیں گے اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا ہراج نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی کے جذبات سے متصف ہیں۔ دفاعی پیداوار کے وزیر نے انڈونیشیا کے حکام کو دفاعی تعاون کو تلاش کرنے کے لیے دفاعی نمائش (آیڈیاز۔2026) میں فعال طور پر شرکت کی دعوت بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انڈونیشیا کے وزیر دفاع پاکستان اور انڈونیشیا سربراہ پاک فضائیہ دونوں ممالک کے دلچسپی ظاہر کی دفاعی پیداوار پاکستان کے نے پاکستان کے درمیان ملاقات کی کے ذریعے انہوں نے دفاع نے نے پاک کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :