کوئٹہ ،محکمہ خزانہ بلوچستان میں آن لائن بھرتیوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(نمائندہ جسارت) محکمہ خزانہ بلوچستان میں صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 111 سرکاری آسامیوں پر سو فیصد میرٹ اور پیپر لیس بنیادوں پر آن لائن بھرتیوں کا آغاز کیا جا رہا ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام سے کیا گیا ان کا پہلا اور دوٹوک وعدہ یہی تھا کہ صوبے میں نہ سرکاری نوکریاں بیچی جائیں گی اور نہ ہی کرپشن یا اقربا پروری کو کسی صورت برداشت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی اعتماد کی بحالی اور شفاف طرزِ حکمرانی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسی وعدے کی تکمیل کے لیے بلوچستان میں شفافیت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں محکمہ خزانہ میں صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 111 سرکاری آسامیوں پر سو فیصد میرٹ اور پیپر لیس بنیادوں پر آن لائن بھرتیوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کرپشن کے خاتمے اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بھرتی کے اس نئے نظام کے تحت امیدواروں سے آن لائن ٹیسٹ لیا جائے گا ان کی قابلیت اور اہلیت کی شفاف انداز میں جانچ کی جائے گی اور کامیاب امیدواروں کو ایک گھنٹے کے اندر اندر تقرری لیٹر جاری کیا جائے گا تاکہ میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس اصلاحاتی نظام کا آغاز محکمہ خزانہ سے کیا جا رہا ہے، جسے مرحلہ وار بلوچستان حکومت کے دیگر تمام محکموں کی سرکاری ملازمتوں تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے گڈ گورننس، شفافیت اور جوابدہی کے فروغ کے لیے پْرعزم ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میرٹ، شفافیت اور عوام سے کیا گیا وعدہ ہی بلوچستان حکومت کی حکمرانی کی بنیاد ہے اور صوبائی حکومت ہر سطح پر ایسے اقدامات جاری رکھے گی جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور اہل افراد کو ان کا حق دلانے کا سبب بنیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جا رہا ہے نے کہا کہ ا ن لائن کا ا غاز کیا جا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔