WE News:
2026-07-24@07:54:36 GMT

حماس نے نئی قیادت کے انتخاب کے لیے تیاریاں شروع کردیں

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

حماس نے نئی قیادت کے انتخاب کے لیے تیاریاں شروع کردیں

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ کے دوران تنظیم کے کئی سینئر رہنماؤں کی شہادت کے بعد اپنی قیادت کو ازسرِنو منظم کرنے کے لیے اندرونی انتخابات کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔

حماس کے ایک سینئر رہنما نے پیر کے روز بتایا کہ داخلی تیاریوں کا عمل جاری ہے تاکہ ان علاقوں میں جہاں زمینی حالات اجازت دیں، مناسب وقت پر انتخابات کرائے جا سکیں۔

انتخابات رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں متوقع

حماس رہنما کے مطابق یہ انتخابات رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں متوقع ہیں، تاہم اس کا انحصار زمینی حالات پر ہوگا۔
اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

غزہ میں بدترین انسانی بحران

جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے 20 لاکھ سے زائد شہری انتہائی خراب انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں خوراک، پانی، طبی سہولیات اور رہائش کی شدید قلت ہے۔

نئی شوریٰ کونسل کی تشکیل

قیادت کی تجدید کے عمل میں 50 رکنی نئی شوریٰ کونسل کی تشکیل بھی شامل ہے، جو ایک مشاورتی ادارہ ہے اور اس میں بڑی تعداد میں مذہبی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔

۔شوریٰ کونسل کے ارکان کا انتخاب ہر 4 سال بعد حماس کی 3 شاخوں کے ذریعے کیا جاتا ہے غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارہ، حماس کی بیرونِ ملک قیادت۔

اس کے علاوہ اسرائیلی جیلوں میں قید حماس کے اسیران بھی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوتے ہیں۔

ماضی میں انتخابات کا طریقہ کار

اکتوبر 2023 سے قبل ہونے والے انتخابات میں غزہ اور مغربی کنارے کے ارکان مختلف مقامات، بشمول مساجد، میں جمع ہو کر شوریٰ کونسل کے ارکان کا انتخاب کرتے تھے۔

سیاسی بیورو اور سربراہ کا انتخاب

شوریٰ کونسل ہر 4 سال بعد 18 رکنی سیاسی بیورو اور اس کے سربراہ کا انتخاب کرتی ہے، جو حماس کا سربراہ ہوتا ہے۔

سیاسی بیورو کے انتخابات غیر یقینی

انتخابی عمل سے واقف حماس کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ سیاسی بیورو کے انتخابات کا وقت ابھی غیر یقینی ہے، کیونکہ ہمارے عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ انتہائی مشکل ہیں۔

حماس کی قیادت میں حالیہ تبدیلیاں

یاد رہے کہ جولائی 2024 میں اسرائیل نے حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کر دیا تھا، جس کے بعد حماس نے غزہ میں اپنے سربراہ یحییٰ سنوار کو نیا قائد منتخب کیا۔

اسرائیل نے یحییٰ سنوار پر 7 اکتوبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگایا تھا۔
بعد ازاں، ہنیہ کی شہادت کے تقریباً 3 ماہ بعد، رفح میں اسرائیلی کارروائی کے دوران یحییٰ سنوار بھی شہید ہو گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حماس غزہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیاسی بیورو کا انتخاب حماس کے حماس کی

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق