امریکا میں بڑا کریک ڈاؤن، ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکا نے ویزا قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں، جن میں ہزاروں غیر ملکی طلبہ اور روزگار کے لیے آنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے پہلے سال کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ کیے گئے۔ ان میں کاروبار اور سیاحت کے ویزے رکھنے والے وہ افراد بھی شامل تھے جو مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام پذیر رہے۔
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے ان میں 8 ہزار طلبہ اور 2 ہزار 500 روزگار کے لیے آنے والے افراد شامل ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ تر کیسز میں افراد کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ یا قانونی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود تھے۔
مزید پڑھیںٹرمپ پر ہنسنے والی ڈینش پارلیمنٹ؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا
بیان کے مطابق شراب نوشی کے دوران گاڑی چلانے، تشدد، چوری، بچوں سے بدسلوکی، منشیات کی تقسیم اور مالی بدعنوانی جیسے الزامات کی بنیاد پر بھی ویزے منسوخ کیے گئے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کو محفوظ بنانے کے لیے ویزا منسوخی اور ملک بدری کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں ٹرمپ انتظامیہ نے 55 ملین ویزا ہولڈرز کے ریکارڈ کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویزے منسوخ افراد کے کے ویزے
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا