امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ سال دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اب تک ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، کیونکہ ان کی انتظامیہ امیگریشن کے خلاف سخت گیر کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔

محکمۂ خارجہ نے پیر کو سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ منسوخ کیے گئے ویزوں میں 8 ہزار طلبا اور 2 ہزار 500 خصوصی مہارت رکھنے والے ورکرز شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

محکمے کے مطابق ویزے منسوخ کیے جانے کی اکثریتی وجہ ’مجرمانہ سرگرمیوں کے سلسلے میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے واسطہ پڑنا‘ تھی۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان واقعات کے نتیجے میں باضابطہ مقدمات بھی قائم ہوئے یا نہیں۔

Trump administration has revoked over 100,000 visas, @StateDept sayshttps://t.

co/V7eh7PcuXB

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) January 12, 2026

ویزا منسوخی کی یہ بڑی تعداد اس وسیع کریک ڈاؤن کی عکاسی کرتی ہے جس کا آغاز صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی کے فوراً بعد کیا تھا۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے اب تک 25 لاکھ سے زائد رضاکارانہ روانگیوں اور ملک بدریوں کی نگرانی کی ہے، جسے گزشتہ ماہ ’ریکارڈ توڑ کامیابی‘ قرار دیا گیا۔

تاہم، ان ملک بدریوں میں بعض ایسے تارکینِ وطن بھی شامل تھے جن کے پاس درست ویزے موجود تھے۔

مزید پڑھیں:

جس کے باعث قانونی طریقۂ کار اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انتظامیہ نے ویزا دینے کے عمل کو بھی مزید سخت بنا دیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کی کڑی جانچ پڑتال اور اسکریننگ کے دائرۂ کار کو وسیع کرنا شامل ہے۔

محکمۂ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے ان غنڈوں کو ملک بدر کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں:

محکمۂ خارجہ کے نائب ترجمان ٹومی پیگوٹ کے مطابق ویزے منسوخ کیے جانے کی 4 بڑی وجوہات میں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا، حملہ اور چوری شامل ہیں۔

ان کے مطابق ویزا منسوخی کے واقعات میں 2024 کے مقابلے میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

محکمۂ خارجہ نے ایک ’کنٹینیوئس ویٹنگ سینٹر‘ بھی قائم کیا ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکی سرزمین پر موجود تمام غیر ملکی امریکی قوانین کی پابندی کریں اور جو افراد امریکی شہریوں کے لیے خطرہ ہوں ان کے ویزے فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔

مزید پڑھیں:

یہ مرکز اُن مجموعی اقدامات کا حصہ ہے جن کے ذریعے ملک میں داخلے کے عمل کو مزید محدود کیا جا رہا ہے۔

محکمۂ خارجہ نے امریکی سفارت کاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے ویزا درخواست گزاروں پر خصوصی نظر رکھیں جنہیں واشنگٹن امریکا کے لیے مخالف سمجھتا ہو یا جن کا سیاسی سرگرمیوں سے تعلق رہا ہو۔

نومبر میں محکمۂ خارجہ نے بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد سے اب تک تقریباً 80 ہزار غیر امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن کی وجوہات میں نشے کی حالت میں ڈرائیونگ سے لے کر حملہ اور چوری تک شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:

صدر ٹرمپ نے 2024 کے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ ’امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے مجرموں کی ملک بدری کے پروگرام‘ کی نگرانی کریں گے۔ انہیں 20 جنوری 2025 کو دوسری مدت کے لیے صدر کے عہدے کا حلف دلایا گیا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن مجرموں اور غیر مجرموں دونوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، انتظامیہ پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ایسے ویزا ہولڈرز کو نشانہ بنا رہی ہے جن کے خیالات سے حکومت متفق نہیں۔

مثال کے طور پر مارچ میں ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شریک طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کی مہم شروع کی۔ ٹفٹس یونیورسٹی کی طالبہ رومیسہ اوزترک بظاہر صرف اپنے کیمپس اخبار میں ایک اداریہ لکھنے پر نشانہ بنیں۔

مزید پڑھیں:

اکتوبر میں محکمۂ خارجہ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے 6 غیر ملکی شہریوں کے ویزے اس بنیاد پر منسوخ کیے کہ انہوں نے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل پر آن لائن خوشی کا اظہار کیا تھا۔

محکمے نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ امریکا پر لازم نہیں کہ وہ ایسے غیر ملکیوں کی میزبانی کرے جو امریکیوں کی موت کی خواہش رکھتے ہوں۔

تاہم ان اقدامات نے آزادیٔ اظہار سے متعلق امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

مزید پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن کریک ڈاؤن میں طاقت کے استعمال پر بھی امریکا میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

حال ہی میں منی ایپلس، منیسوٹا میں امیگریشن کارروائیوں کے دوران 3 بچوں کی ماں 37 سالہ رینی نکول گڈ کو ان کی گاڑی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا چارلی کرک سوشل میڈیا کریک ڈاؤن محکمہ خارجہ منسوخی واشنگٹن ویزا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا چارلی کرک سوشل میڈیا کریک ڈاؤن واشنگٹن ویزا ویزے منسوخ کیے جا ٹرمپ انتظامیہ سوشل میڈیا مزید پڑھیں کریک ڈاؤن کیا تھا کے لیے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔

جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔

یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔

خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ