صارفین خبردار! واٹس ایپ اکاؤنٹس ہائی جیک کیے جانے کے خطرات میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واٹس ایپ صارفین کے لیے تشویش ناک خبر سامنے آ گئی ہے کیونکہ واٹس ایپ اکاؤنٹس ہائی جیک کیے جانے کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر کابینہ ڈویژن کے تحت نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس میں صارفین کو ایک منظم سائبر فراڈ مہم سے خبردار کیا گیا ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق 2026 کے دوران واٹس ایپ ہائی جیکنگ کی ایک نئی مہم سرگرم ہے، جس میں ہیکرز صارفین کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے لیے او ٹی پی فراڈ (OTP Scam) کا سہارا لے رہے ہیں۔ ہیکرز مختلف طریقوں سے صارفین کو دھوکہ دے کر چھ ہندسوں پر مشتمل ویری فکیشن کوڈ حاصل کرتے ہیں، جس کے بعد وہ اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔
نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایک بار اکاؤنٹ ہائی جیک ہو جائے تو حملہ آور صارف کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جن میں چیٹ ہسٹری، میڈیا فائلز، ذاتی پیغامات اور کنٹیکٹ لسٹ شامل ہے۔ ہیکرز متاثرہ صارف کی کنٹیکٹ لسٹ کو استعمال کرتے ہوئے اس کے دوستوں اور رشتہ داروں سے پیسوں کا تقاضا بھی کرتے ہیں، جس سے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایڈوائزری میں صارفین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنا چھ ہندسوں پر مشتمل ایس ایم ایس ویری فکیشن کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ اسی طرح ٹو اسٹیپ ویری فکیشن پن (Two-Step Verification PIN) بھی مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے اور کسی فرد، کال یا پیغام پر فراہم نہ کیا جائے۔
نیشنل سرٹ نے مزید کہا ہے کہ صارفین وائس کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونے والے کسی بھی قسم کے کوڈز کو شیئر کرنے سے گریز کریں، چاہے پیغام یا کال کسی جاننے والے کے نام سے ہی کیوں نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق ہیکرز اکثر جعلی پروفائلز یا ہیک شدہ نمبرز کے ذریعے اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو واٹس ایپ پر ٹو اسٹیپ ویری فکیشن لازمی فعال رکھنی چاہیے، مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور کسی بھی غیر متوقع پیغام یا کال کی صورت میں فوری طور پر تصدیق کرنی چاہیے تاکہ اکاؤنٹ ہائی جیکنگ اور ڈیجیٹل فراڈ سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویری فکیشن صارفین کو واٹس ایپ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم