data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واٹس ایپ صارفین کے لیے تشویش ناک خبر سامنے آ گئی ہے کیونکہ واٹس ایپ اکاؤنٹس ہائی جیک کیے جانے کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر کابینہ ڈویژن کے تحت نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس میں صارفین کو ایک منظم سائبر فراڈ مہم سے خبردار کیا گیا ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق 2026 کے دوران واٹس ایپ ہائی جیکنگ کی ایک نئی مہم سرگرم ہے، جس میں ہیکرز صارفین کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے لیے او ٹی پی فراڈ (OTP Scam) کا سہارا لے رہے ہیں۔ ہیکرز مختلف طریقوں سے صارفین کو دھوکہ دے کر چھ ہندسوں پر مشتمل ویری فکیشن کوڈ حاصل کرتے ہیں، جس کے بعد وہ اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔

نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایک بار اکاؤنٹ ہائی جیک ہو جائے تو حملہ آور صارف کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جن میں چیٹ ہسٹری، میڈیا فائلز، ذاتی پیغامات اور کنٹیکٹ لسٹ شامل ہے۔ ہیکرز متاثرہ صارف کی کنٹیکٹ لسٹ کو استعمال کرتے ہوئے اس کے دوستوں اور رشتہ داروں سے پیسوں کا تقاضا بھی کرتے ہیں، جس سے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایڈوائزری میں صارفین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنا چھ ہندسوں پر مشتمل ایس ایم ایس ویری فکیشن کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ اسی طرح ٹو اسٹیپ ویری فکیشن پن (Two-Step Verification PIN) بھی مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے اور کسی فرد، کال یا پیغام پر فراہم نہ کیا جائے۔

نیشنل سرٹ نے مزید کہا ہے کہ صارفین وائس کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونے والے کسی بھی قسم کے کوڈز کو شیئر کرنے سے گریز کریں، چاہے پیغام یا کال کسی جاننے والے کے نام سے ہی کیوں نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق ہیکرز اکثر جعلی پروفائلز یا ہیک شدہ نمبرز کے ذریعے اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو واٹس ایپ پر ٹو اسٹیپ ویری فکیشن لازمی فعال رکھنی چاہیے، مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور کسی بھی غیر متوقع پیغام یا کال کی صورت میں فوری طور پر تصدیق کرنی چاہیے تاکہ اکاؤنٹ ہائی جیکنگ اور ڈیجیٹل فراڈ سے بچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویری فکیشن صارفین کو واٹس ایپ

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان