سپریم کورٹ نے 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزمہ کی ضمانت منظور کرلی۔

کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت ملزمہ کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے اور اس کے خلاف نہ کوئی عینی گواہ موجود ہے اور نہ ہی ٹھوس شواہد۔

یہ بھی پڑھیں: 72 شوگر ملز کے جرمانے، سپریم کورٹ نے ٹریبونل کو 90 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ جیل میں ہے اور دورانِ حراست اس نے ایک بچے کو جنم بھی دیا ہے، جب کہ مقتول بچہ پہلے ہی دمے کا مریض تھا۔

مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مدعی اپنے بچے کو صحیح سلامت گھر چھوڑ کر گیا تھا، تاہم اسکول سے واپسی پر گھر میں بچے کی لاش پڑی ہوئی تھی۔

وکیل کے مطابق گھریلو جھگڑے کے دوران ملزمہ نے بچے کو زہریلی چیز کھلائی اور بعد ازاں گلا دبا کر قتل کیا۔

سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے کی موت قدرتی نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: توہینِ مذہب کے ملزم کی میت پر ہنگامہ، سپریم کورٹ نے مولوی احمد کی ضمانت مسترد کردی

جسٹس ملک شہزاد نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے معلوم ہوگا کہ بچے کو ماں نے ہی مارا ہے، انہوں نے ریمارکس دیے کہ آدھا کیس مدعی اور آدھا پولیس خراب کر دیتی ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہائی کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ ملزمہ کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں 26 مئی کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پولیس جسٹس جمال مندوخیل جسٹس مسرت ہلالی جسٹس ملک شہزاد ذوالفقار بھٹہ سپریم کورٹ میڈیکل رپورٹ ننکانہ صاحب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پولیس جسٹس جمال مندوخیل جسٹس مسرت ہلالی جسٹس ملک شہزاد سپریم کورٹ میڈیکل رپورٹ ننکانہ صاحب سپریم کورٹ نے کی ضمانت بچے کو

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن