جاوید بٹ قتل کیس: امیر فتح کی عبوری ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ نے طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کیس میں امیر فتح کی عبوری ضمانت 22 جنوری تک منظور کر لی۔
جسٹس امجد رفیق نے ملزم امیر فتح کی عبوری ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت نے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے پولیس کو 22 جنوری تک گرفتاری سے روک دیا۔
عدالت نے ملزم کو 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
دوران سماعت جسٹس امجد رفیق نے سوال کیا کہ ملزم امیر فتح کہاں ہے؟
امیر فتح کے وکیل نے کہا کہ ملزم عدالت کے اطراف میں ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
جاوید بٹ کو گزشتہ سال کینال روڈ پر موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔
جس پر جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ میرے لیے کیا حکم ہے میں باہر چلا جاؤں؟ وہاں جا کر حاضری لگوائیں؟
وکیل عابد ساقی نے کہا کہ میں تو اپنا قانونی حق استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ میں کیسے مان لوں کہ ملزم کو کسی نے روکا ہوا ہے؟
وکیل عابد ساقی نے کہا کہ لاہور کورٹ روم میں صحافی کھڑے ہیں ان سے پوچھیں باہر کتنی پولیس لگی ہے۔
جس پر جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ ایس پی سیکیورٹی ملزم کو کورٹ روم میں لے کر آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس امجد رفیق نے نے کہا کہ جاوید بٹ امیر فتح
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔