بھاری سپر ٹیکس سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے، نجی کمپنیوں کا عدالت میں مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کی 3 رکنی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق کیسز کی سماعت کی، جبکہ جسٹس حسن اظہر رضوی بھی بینچ کا حصہ تھے۔
نجی کمپنی کے وکیل مرزا محمود خان نے مؤقف اختیار کیا کہ 2010 سے قبل شیئر ہولڈر کمپنیوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں تھا، تاہم 2010 کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 37 اے کے تحت سپر ٹیکس کا نفاذ شروع کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اپنی 70 فیصد سرمایہ کاری بینکوں سے قرض کی صورت میں حاصل کرتی ہیں اور حکومت کو ٹیکس اور بینکوں کو سود ادا کرنے کے بعد مالی سال کے اختتام پر اکثر نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ تو آپ اپنے بل بوتے پر کاروبار کریں۔
وکیل مرزا محمود خان نے جواب دیا کہ پاکستان میں شرح سود میں کمی سے چھوٹے کاروبار کو فروغ مل رہا ہے، تاہم بھاری ٹیکسوں کے باعث اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔
وکیل نے مزید کہا کہ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ سپر ٹیکس منافع پر لگایا جا رہا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ٹیکس مجموعی آمدن پرعائد کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کمپنی کی آمدن 500 ملین روپے ہو اور منافع 100 ملین روپے سے بھی کم ہو، تب بھی پوری آمدن پر سپر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 10 فیصد سپر ٹیکس درحقیقت 67 فیصد ٹیکس کے برابر ہو چکا ہے، جبکہ ٹیکس صرف منافع پر لگایا جانا چاہیے۔
اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سرمایہ کاری سے متعلق دوستانہ پالیسیاں بھی ہونی چاہییں۔
مزید پڑھیں:
وکیل مرزا محمود خان نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ایک بوٹی کے لیے پورا بکرا ذبح نہیں کرنا چاہیے۔
بعد ازاں اینگرو کمپنی کے وکیل خالد جاوید خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ادویات بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ تقریباً تمام صنعتیں بند تھیں۔
جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ماسک بنانے والی کمپنیاں تو کام کر رہی تھیں، وکیل خالد جاوید خان نے جواب دیا کہ اس دوران کچھ ٹیکسٹائل کمپنیاں بھی کام کر رہی تھیں، لیکن اب ان کمپنیوں پر سپر ٹیکس نہیں جبکہ دیگر صنعتوں پر یہ ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:
وکیل خالد جاوید خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آمدن کی بنیاد پر درجہ بندی کر کے سپر ٹیکس لگایا گیا ہے، جو امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
ان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت کو بتایا گیا کہ آئندہ سماعت پر سلمان اکرم راجہ اور فروغ نسیم اپنے دلائل پیش کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکم ٹیکس آرڈیننس اینگرو کمپنی جسٹس حسن اظہر رضوی خالد جاوید خان سپر ٹیکس مرزا محمود خان وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ا رڈیننس اینگرو کمپنی جسٹس حسن اظہر رضوی خالد جاوید خان سپر ٹیکس وفاقی ا ئینی عدالت جسٹس حسن اظہر رضوی خالد جاوید خان سرمایہ کاری سپر ٹیکس کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔