سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ؛ نرخ تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
کراچی:
جیو پولیٹیکل صورتحال خراب ہونے سے عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلند سطح پر آگئی ہیں۔
امریکا کی وینزویلا اور ایران کے ساتھ کشیدگی، رواں سال فیڈرل ریزرو امریکا کی شرح سود میں مزید کمی کی بازگشت، جغرافیائی سیاسی تناو سے عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتیں وقفے وقفے سے تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں منگل کو دوسرے دن بھی فی اونس سونے کی قیمت مزید 9ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 595ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔
مزید پڑھیںسونے کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ؛ نرخ تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئے
سونے کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہوگئی؟
سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے سبب فی تولہ سونے کی قیمت بھی 900 روپے کے اضافے 4لاکھ 81ہزار 186روپے کی سطح پر آگئی۔
اس کے ساتھ، فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 771روپے بڑھ کر 4لاکھ 13ہزار 118روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 180روپے کے اضافے سے 9ہزار 075 روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت 154روپے کے اضافے سے 7ہزار 780روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چاندی کی قیمت تاریخ کی نئی سونے کی قیمت کے اضافے فی تولہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔