Daily Sub News:
2026-06-02@23:15:44 GMT

پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت

پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز


تحریر: چوہدری شفقت محمود دھول
صدر، پاکستان انویسٹر فورم
جدہ، مملکتِ سعودی عرب


اوورسیز پاکستانی برسوں نہیں بلکہ دہائیوں تک پردیس میں محنت کرتے ہیں۔ ان کی جوانی، صحت اور صلاحیتیں غیر ملکی معیشتوں کی نذر ہو جاتی ہیں، جبکہ وطنِ عزیز پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کی صورت میں ترسیلاتِ زر حاصل ہوتی ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب یہی پاکستانی عمر کے اس حصے میں داخل ہوتے ہیں جہاں آرام، تحفظ اور وقار کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو ریاستی سطح پر ان کے لیے کوئی باضابطہ پینشن نظام موجود نہیں ہوتا۔


یہ مسئلہ محض فلاحی نہیں بلکہ خالصتاً قومی پالیسی کا ہے۔ اوورسیز پاکستانی ریاست کے خیر خواہ، معیشت کے مضبوط ستون اور دنیا بھر میں پاکستان کے سفیر ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا انہیں پینشن دی جا سکتی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی اس ذمہ داری کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟


اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اوورسیز پینشن کا نظام ممکن نہیں، مگر یہ دلیل زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ دنیا میں ایسی واضح مثال موجود ہے جو ثابت کرتی ہے کہ اگر نیت ہو تو نظام بنایا جا سکتا ہے — اور وہ مثال ہے فلپائن۔


فلپائن کے شہری جب روزگار کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یورپ یا امریکہ جاتے ہیں تو وہ اپنے وطن کے سوشل سیکیورٹی سسٹم سے الگ نہیں ہو جاتے۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے فلپائنی شہری (OFWs) اپنے ملک کے Social Security System میں رضاکارانہ مگر باقاعدہ کنٹری بیوشن دیتے رہتے ہیں۔ ریاست انہیں مجبور نہیں کرتی بلکہ ایک محفوظ، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام فراہم کرتی ہے۔ نتیجتاً جب وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہیں فلپائن کی حکومت کی جانب سے ماہانہ پینشن ملتی ہے — خواہ وہ وطن واپس آئیں یا بیرونِ ملک ہی مقیم رہیں۔


فلپائن کا یہ ماڈل اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہاں پینشن خیرات نہیں بلکہ کنٹری بیوٹری حق ہے۔ شہری اپنی آمدن کے مطابق حصہ ڈالتا ہے، ریاست اس رقم کی حفاظت اور سرمایہ کاری کی ذمہ دار ہوتی ہے، اور بڑھاپے میں شہری کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ فلپائن کو نہ صرف مستقل ریمیٹنس حاصل ہوتی ہیں بلکہ اوورسیز شہریوں کا ریاست پر اعتماد بھی قائم رہتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں اگر کوئی اوورسیز پاکستانی تیس یا چالیس سال بیرونِ ملک محنت کرے تو وطن واپسی پر اس کے لیے کوئی ریاستی پینشن موجود نہیں ہوتی۔ ساری زندگی کی جمع پونجی چند برسوں میں ختم ہو جاتی ہے اور پھر وہی فرد معاشی اور سماجی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔


فلپائن کا ماڈل پاکستان کے لیے مکمل طور پر قابلِ تقلید ہے۔ یہاں بھی ایک کنٹری بیوٹری اوورسیز پینشن اسکیم متعارف کروائی جا سکتی ہے، جس میں اوورسیز پاکستانی اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق ماہانہ کنٹری بیوشن دیں، جبکہ حکومتِ پاکستان ریگولیٹری سرپرستی، شفاف سرمایہ کاری اور انتظامی سہولت فراہم کرے۔ نادرا، اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ایک ڈیجیٹل، پورٹیبل اور قابلِ اعتماد نظام قائم کرنا کوئی ناممکن کام نہیں۔


یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پینشن دینا احسان نہیں بلکہ دور اندیش قومی پالیسی ہے۔ جب ایک شہری کو یہ یقین ہوگا کہ اس کا ملک اس کے بڑھاپے کا بھی ذمہ دار ہے تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرے گا، زیادہ دلجمعی سے ترسیلاتِ زر بھیجے گا اور وطن سے اس کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔


اب وقت آ گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف عملی قدم اٹھایا جائے۔ فلپائن یہ کر کے دکھا چکا ہے۔
سوال صرف یہ ہے: پاکستان کب کرے گا؟

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس زمین کے خدا — خواتین کے وراثتی حقوق اور ریاستی انصاف کا امتحان پاکستان کی معاشی صورتحال الیکٹرک بس سروس: ایک خوش آئند قدم، مگر ناکافی سہولیات اوورسیز پاکستانی: خاموش طاقت یا نظر انداز شدہ قومی اثاثہ؟ مسئلہ کشمیر: حق خودارادیت کی جدوجہد اور عالمی ذمہ تحریک تحفظ آئین پاکستان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی