Daily Sub News:
2026-07-24@04:16:21 GMT

پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت

پینشن: ایک قومی ذمہ داری، ایک ممکن حقیقت WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز


تحریر: چوہدری شفقت محمود دھول
صدر، پاکستان انویسٹر فورم
جدہ، مملکتِ سعودی عرب


اوورسیز پاکستانی برسوں نہیں بلکہ دہائیوں تک پردیس میں محنت کرتے ہیں۔ ان کی جوانی، صحت اور صلاحیتیں غیر ملکی معیشتوں کی نذر ہو جاتی ہیں، جبکہ وطنِ عزیز پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کی صورت میں ترسیلاتِ زر حاصل ہوتی ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب یہی پاکستانی عمر کے اس حصے میں داخل ہوتے ہیں جہاں آرام، تحفظ اور وقار کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو ریاستی سطح پر ان کے لیے کوئی باضابطہ پینشن نظام موجود نہیں ہوتا۔


یہ مسئلہ محض فلاحی نہیں بلکہ خالصتاً قومی پالیسی کا ہے۔ اوورسیز پاکستانی ریاست کے خیر خواہ، معیشت کے مضبوط ستون اور دنیا بھر میں پاکستان کے سفیر ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا انہیں پینشن دی جا سکتی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی اس ذمہ داری کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟


اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اوورسیز پینشن کا نظام ممکن نہیں، مگر یہ دلیل زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ دنیا میں ایسی واضح مثال موجود ہے جو ثابت کرتی ہے کہ اگر نیت ہو تو نظام بنایا جا سکتا ہے — اور وہ مثال ہے فلپائن۔


فلپائن کے شہری جب روزگار کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یورپ یا امریکہ جاتے ہیں تو وہ اپنے وطن کے سوشل سیکیورٹی سسٹم سے الگ نہیں ہو جاتے۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے فلپائنی شہری (OFWs) اپنے ملک کے Social Security System میں رضاکارانہ مگر باقاعدہ کنٹری بیوشن دیتے رہتے ہیں۔ ریاست انہیں مجبور نہیں کرتی بلکہ ایک محفوظ، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام فراہم کرتی ہے۔ نتیجتاً جب وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہیں فلپائن کی حکومت کی جانب سے ماہانہ پینشن ملتی ہے — خواہ وہ وطن واپس آئیں یا بیرونِ ملک ہی مقیم رہیں۔


فلپائن کا یہ ماڈل اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہاں پینشن خیرات نہیں بلکہ کنٹری بیوٹری حق ہے۔ شہری اپنی آمدن کے مطابق حصہ ڈالتا ہے، ریاست اس رقم کی حفاظت اور سرمایہ کاری کی ذمہ دار ہوتی ہے، اور بڑھاپے میں شہری کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ فلپائن کو نہ صرف مستقل ریمیٹنس حاصل ہوتی ہیں بلکہ اوورسیز شہریوں کا ریاست پر اعتماد بھی قائم رہتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں اگر کوئی اوورسیز پاکستانی تیس یا چالیس سال بیرونِ ملک محنت کرے تو وطن واپسی پر اس کے لیے کوئی ریاستی پینشن موجود نہیں ہوتی۔ ساری زندگی کی جمع پونجی چند برسوں میں ختم ہو جاتی ہے اور پھر وہی فرد معاشی اور سماجی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔


فلپائن کا ماڈل پاکستان کے لیے مکمل طور پر قابلِ تقلید ہے۔ یہاں بھی ایک کنٹری بیوٹری اوورسیز پینشن اسکیم متعارف کروائی جا سکتی ہے، جس میں اوورسیز پاکستانی اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق ماہانہ کنٹری بیوشن دیں، جبکہ حکومتِ پاکستان ریگولیٹری سرپرستی، شفاف سرمایہ کاری اور انتظامی سہولت فراہم کرے۔ نادرا، اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ایک ڈیجیٹل، پورٹیبل اور قابلِ اعتماد نظام قائم کرنا کوئی ناممکن کام نہیں۔


یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پینشن دینا احسان نہیں بلکہ دور اندیش قومی پالیسی ہے۔ جب ایک شہری کو یہ یقین ہوگا کہ اس کا ملک اس کے بڑھاپے کا بھی ذمہ دار ہے تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرے گا، زیادہ دلجمعی سے ترسیلاتِ زر بھیجے گا اور وطن سے اس کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔


اب وقت آ گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف عملی قدم اٹھایا جائے۔ فلپائن یہ کر کے دکھا چکا ہے۔
سوال صرف یہ ہے: پاکستان کب کرے گا؟

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس زمین کے خدا — خواتین کے وراثتی حقوق اور ریاستی انصاف کا امتحان پاکستان کی معاشی صورتحال الیکٹرک بس سروس: ایک خوش آئند قدم، مگر ناکافی سہولیات اوورسیز پاکستانی: خاموش طاقت یا نظر انداز شدہ قومی اثاثہ؟ مسئلہ کشمیر: حق خودارادیت کی جدوجہد اور عالمی ذمہ تحریک تحفظ آئین پاکستان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا