پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے وفد کی ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں پاک-یو اے ای تعلقات، باہمی تعاون، اور مسافروں کے لیے امیگریشن کے عمل کو مزید آسان بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے باضابطہ معاہدے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر کراچی سے کیا جائے گا، پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان میں مکمل کی جائے گی، جس کے بعد مسافروں کو متحدہ عرب امارات پہنچنے پر امیگریشن کی طویل کارروائی سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ مسافر ڈومیسٹک سفر کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے،انہوں نے اس اقدام کے فوائد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفر میں سہولت، وقت کی بچت اور مسافروں کے لیے مجموعی تجربے کو بہتر بنائے گا۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ہر طرح کے تعاون کے عزم کا اظہار کیا، پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام رابطہ کاری جاری رکھیں گے، اور کامیاب پائلٹ کے بعد اس نظام کو بتدریج مزید مقامات تک توسیع دی جائے گی۔
وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جما عبداللہ القابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر ڈکلیئر کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔