ایران میں احتجاج، گریٹر امریکا پلان سے متعلق تجزیہ کار آغا نقی ہاشمی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ایران میں احتجاج کے پس پردہ عوامل و حقائق؟ کیا احتجاج میں غیر ملکی عناصر بھی شامل ہیں؟ فسادیوں کے اصل مقاصد؟ ایران میں معاشی مسائل کا ذمہ دار کون؟ ایران کے ساتھ ساتھ امریکا کی کینیڈا اور یورپی سرزمین گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی کیوں؟ گریٹر اسرائیل کے ساتھ ساتھ گریٹر امریکا پلان؟ کیا برطانیہ سمیت عالم مغرب امریکا کی قبضہ پالیسیوں پر خاموش رہینگے؟ کیا صدر ٹرمپ کی پالیسیاں امریکا کی سلامتی یا خودکشی کا سبب؟ امریکا میں عوام اور ریاستوں کیجانب سے بغاوت ممکن ہے؟ غزہ جنگ بندی کی صورتحال؟ سعودی اماراتی تنازعے کی اصل وجوہات؟ کیا سعودی عرب امریکا سے دوری اختیار کر رہا ہے؟ ان سمیت دیگر متعلقہ و اہم سوالات کے جوابات جاننے کیلئے سینیئر تجزیہ کار و ریسرچ اسکالر جناب علی نقی ہاشمی کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کیساتھ بھی شیئر کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںسینئر تجزیہ کار و ریسرچ اسکالر آغا علی نقی ہاشمی کا بنیادی تعلق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ہے، وہ قم المقدسہ سے فارغ التحصیل اور جامعہ بعثت پاکستان کے بنیاد گزار افراد میں شمار کئے جاتے ہیں، انکا شمار اسلامی عقائد، تاریخ کی روشنی میں حالات حاضرہ پر بہترین تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے۔ عوام میں انکے تجزیئے مقبول اور درست راہ کے حصول میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے آغا علی نقی ہاشمی کیساتھ ایران میں احتجاج کے پس پردہ عوام و حقائق، امریکا کی گرین لینڈ و کینیڈا پر قبضے کی دھمکی، گریٹر امریکا پلان، امریکا میں بغاوت، غزہ جنگ بندی، سعودی اماراتی تنازعے سمیت دیگر متعلقہ موضوعات کے حوالے سے کراچی میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے لیا گیا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران میں امریکا کی نقی ہاشمی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔