ایران میں افراتفری یا بیرونی مداخلت کا خطے کے امن پر گہرا اثر پڑے گا‘ ترکیہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکیہ نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران میں ممکنہ غیر ملکی مداخلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک حکمراں جماعت کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں بیرونی مداخلت سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور خطہ ایک نئے بحران کی طرف جاسکتا ہے۔ترک حکمراں
جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر سلیک نے انقرہ میں صدر رجب طیب اردگان کی زیرِ صدارت پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ترکیہ ایران میں کسی بھی قسم کی افراتفری یا بیرونی مداخلت کا حامی نہیں ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران ایک اہم ہمسایہ ملک ہے اور وہاں عدم استحکام کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ ایران کے اندر کسی بھی نوعیت کی کارروائی، سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔