نادرا کا شناختی دستاویزات اور شناختی کارڈ کی تجدید کی سہولیات منتخب ای سہولت فرنچائزز پر فراہم کرنے کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نادرا شباہت علی سید نے بتایا کہ کراچی اتنا بڑا شہر ہے ہم نے یہاں بے شمار سینٹرز کھولے لیکن رش مزید بڑھتا ہی جارہا ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اب کچھ خاص علاقوں کی دکانوں پر ای سہولت کا آغاز کررہے ہیں، لیکن وہاں پر کوائف تبدیل نہیں ہوسکیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ای سہولت فرنچائزز پر شناختی دستاویزات اور شناختی کارڈ کی تجدید کی سہولیات منتخب ای سہولت فرنچائزز پر فراہم کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ نادرا فرنچائز پر شہریوں کو کون کون سی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں اور یہ سہولیات کن فرنچائزز پر دستیاب ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ترجمان نادرا شباہت علی سید نے بتایا کہ شادیاں طلاقیں پیدائش اور وفات زیادہ ہو رہی ہیں جبکہ لوگ ان کا اندراج کم کرارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں نادرا نے ریڈیو پاکستان سے معاہدہ کیا ہے جس کے ذریعے عوام میں آگاہی فراہم کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نادرا شباہت علی سید نے بتایا کہ کراچی اتنا بڑا شہر ہے ہم نے یہاں بے شمار سینٹرز کھولے لیکن رش مزید بڑھتا ہی جارہا ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اب کچھ خاص علاقوں کی دکانوں پر ای سہولت کا آغاز کررہے ہیں، لیکن وہاں پر کوائف تبدیل نہیں ہوسکیں گے، مختلف محلوں اور بازاروں میں قائم ان منی سینٹرز میں شہریوں کیلئے ای سہولت فرنچائز پر شناختی کارڈ کا جلد حصول ممکن ہوسکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فرنچائزز پر نے بتایا کہ کا آغاز
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔