پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کا انتخاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پاکستان بار کونسل کا 248واں اجلاس منعقد ہوا جس میں کونسل کے نائب چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی منتخب کرلیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بار کونسل نے پنجاب پراپرٹی تحفظ قانون کو مسترد کردیا، عدلیہ مخالف پروپیگنڈے پر تحفظات کا اظہار
پاکستان بار کونسل کے اجلاس صدارت اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے بطور چیئرمین پاکستان بار کونسل کی۔
اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان بار کونسل میں نائب چیئرمین کے انتخاب کے لیے خفیہ رائے شماری کرائی گئی۔
اعلامیے کے مطابق انتخابی عمل کے دوران پیر محمد مسعود چشتی نے 15 ووٹ حاصل کر کے قاضی محمد ارشد کے 8 ووٹوں کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد پیر محمد مسعود چشتی کو سال 2026 کے لیے پاکستان بار کونسل کا نائب چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔
مزید پڑھیے: پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون کی معطلی، پاکستان بار کونسل کا خیرمقدم
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ منیر احمد ملک (کراچی) کو سنہ 2026 کے لیے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار کونسل منتخب کیا گیا ہے۔
اجلاس میں پاکستان بار کونسل نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف جاری مبینہ کردار کشی مہم کی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان بار کونسل عدلیہ کی آزادی، آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کی عدلیہ مخالف مہم کو ناقابلِ قبول قرار دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بار کونسل کے انتخابات کا نوٹیفکیشن اور منتخب اراکین کے نام جاری
اعلامیے کے مطابق پاکستان بار کونسل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلا برادری آئینی اداروں کے استحکام، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان بار کونسل نائب چیئرمین کونسل کے کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔