بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جنوبی مغربی بنگلہ دیش میں فوجی کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے مقامی پارٹی رہنما کی ہلاکت کے بعد فوجی چیف سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش

منگل کو جاری کردہ بیان میں بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے واقعے کی شدید مذمت کی اور انصاف کے لیے ایک شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

بی این پی کے مطابق شمس الزماں ڈبلو، جو چوآڈانگا کے جیبن نگر میونسپل یونٹ کے جنرل سیکریٹری تھے، پیر کی رات ایک فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے۔ بعد ازاں انہیں مقامی ہیلتھ کمپلیکس منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔

پارٹی کا الزام ہے کہ شمس الزماں کو سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے غیر قانونی ہتھیاروں کی بازیابی کے بہانے گرفتار کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت ہوئی۔

مرزا فخرالاسلام نے واقعے کو شدید تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی یہ کارروائی ملک کے لیے نقصان دہ ہے اور قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

شمس الزمان۔

پارٹی نے اس ہلاکت کو غیر قانونی قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جرم پر خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہوعدالتی کارروائی کے بغیر سزا دینے کا جواز نہیں بن سکتا۔

فخرالاسلام نے فوجی چیف سے اپیل کی کہ وہ اس المناک اور وحشتناک واقعے میں مداخلت کریں اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تحت انصاف کو یقینی بنایا جائے۔

مزید پڑھیے: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور

بی این پی کے بیان کے بعد، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ایک علیحدہ پریس ریلیز میں کہا کہ گرفتار شدہ رہنما اچانک گر کر بے ہوش ہوگئے تھے جس پر انہیں فوری طور پر جیبن نگر اپزیلا ہیلتھ کمپلیکس منتقل کیا گیا جہاں انہیں تقریباً 12:25 بجے مردہ قرار دیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ کارروائی میں شامل تمام فوجی، بشمول مقامی کیمپ کمانڈر، عارضی طور پر واپس بلا لیے گئے ہیں اور واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شمس الزماں کو ان کی فارمیسی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی بی این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے رات گئے احتجاج کیا، اسپتال کے نزدیک سڑکیں بند کیں اور آگ بھی لگائی۔ مظاہرین نے اس کو قتل قرار دیا اور ذمہ داران کی سزا کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

یہ واقعہ بنگلہ دیش میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں فوجی تحقیقات کے نتائج پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور مکمل شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی رہنما کی ہلاکت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی رہنما کی ہلاکت بی این پی کے بنگلہ دیش کا مطالبہ کی ہلاکت کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی