انڈونیشیا پاکستان سے 40 جنگی طیارے خریدنے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
انڈونیشیا پاکستان سے 40 جنگی طیارے خریدنے کے قریب WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)تین پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے اسلام آباد میں پاکستان ایئر فورس کے سربراہ سے ملاقات کی، جس میں جکارتہ کو جنگی طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر مبنی ممکنہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایک ذریعے نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ مذاکرات میں JF-17 جنگی طیاروں کی انڈونیشیا کو فروخت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دوسرے دو ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات اعلی سطح پر پہنچ چکے ہیں اور ان میں 40 سے زائد JF-17 طیاروں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی خریداری شامل ہیں۔
ان میں سے ایک نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے شہپر ڈرونز میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ذرائع نے ترسیل کے شیڈول یا مجوزہ معاہدے کی مدت کے بارے میں کوئی تفصیلات شیئر نہیں کیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ ہو گا، جس میں اسلام آباد حکومت اتنے زیادہ جنگی طیارے اور ڈرون فروخت کرے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآپکوافغانستان سے ہمدردی ہے تو ادھر چلے جائیں یا ہم آپکو چھوڑ آتے ہیں : طلال چوہدری کی سہیل آفریدی پر تنقید آپکوافغانستان سے ہمدردی ہے تو ادھر چلے جائیں یا ہم آپکو چھوڑ آتے ہیں : طلال چوہدری کی سہیل آفریدی پر تنقید محمد مسعود چشتی 2026 کیلئے پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین منتخب شیخ عبدالروف ایڈووکیٹ کے قتل کا معاملہ،اسلام آباد بار ایسو سی ایشن کا کل ہڑتال کا اعلان اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کی ملاقات ایران میں احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی: رائٹرز بلاول کی مداخلت،ن لیگ اور پی پی کے اختلافات ختم ،معاملات حلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔