ہم ایسا بھارت بنانا چاہتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کی زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کا احترام کریں، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر ہمارے پاس حکمت نہ ہو اور ہم صرف معلومات کے پیچھے بھاگتے رہیں تو دنیا بہت بری جگہ بن جائیگی، اسی لئے ایسے اسکولوں کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ یہ نوجوان طلبہ کو دانا شہری بناتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ایسے بھارت کی تعمیر میں مدد کرنا چاہتے ہیں جہاں شہری ایک دوسرے کی زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کا احترام کریں۔ انہوں نے یہ بات تمل ناڈو کے گدالور میں سینٹ تھامس انگلش ہائی اسکول کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کے دوران کہی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) آئی ٹی اور ڈیٹا کے اس دور میں معلومات ہر جگہ دستیاب ہیں، مگر اسکولوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ معلومات کو علم اور اس سے بھی بڑھ کر حکمت میں تبدیل کرنے والے انسان تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم روزانہ آئی ٹی انقلاب، اے آئی اور ڈیٹا کے بارے میں سنتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ معلومات کا دور ہے، جہاں معلومات آزادانہ طور پر دستیاب ہیں، لیکن ایسے اسکولوں کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ تیار کریں جو معلومات کو دیکھ سکیں، اسے علم میں بدلیں اور سب سے اہم بات یہ کہ حکمت کے ساتھ برتاؤ کریں۔
راہل گاندھی نے اسکولوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر معلومات کے اس دور میں حکمت نہ ہو تو دنیا ایک ناخوشگوار جگہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے پاس حکمت نہ ہو اور ہم صرف معلومات کے پیچھے بھاگتے رہیں تو دنیا بہت بری جگہ بن جائے گی، اسی لئے ایسے اسکولوں کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ یہ نوجوان طلبہ کو دانا شہری بناتے ہیں۔ راہل گاندھی نے طلبہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے طلبہ سے پوچھا کہ وہ ایک استاد کو اچھا استاد کیوں سمجھتے ہیں، تو جواب ملا کہ وہ ہمیں سنتی ہیں اور محبت و شفقت سے پیش آتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی میری جدوجہد ہے، میں ایسا بھارت بنانے میں مدد کرنا چاہتا ہوں جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مہربان ہوں، ایک دوسرے کی بات سنیں اور ایک دوسرے کی زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کا احترام کریں۔ راہل گاندھی نے طلبہ اور سیاست دانوں دونوں کو عاجزی اپنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں طلبہ سے پوچھا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں، کسی نے ڈاکٹر بننے کی بات کی، کسی نے فضائیہ میں پائلٹ بننے کی، مگر کسی نے سیاست دان بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے 20 سالہ سیاسی تجربے میں میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سیاست دان، طالب علم یا استاد سب کے لئے سب سے اہم قدر عاجزی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے ایک دوسرے کی
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔