پاکستان اور سعودی عرب نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ’فیوچر منرلز فورم‘ کے موقع پر سعودی وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر ابراہیم الخوریف سے ملاقات کی۔

مزید پڑھیں: منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025: معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان نیا تجارتی و معاشی مرکز قرار

اس دوران دونوں فریقین نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اس وقت ریاض میں ’فیوچر منرلز فورم‘ میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں۔ 13 سے 15 جنوری تک جاری رہنے والے اس فورم میں دنیا کے 160 سے زیادہ ممالک کی حکومتوں، کاروباری اداروں، کثیرالجہتی اور غیر سرکاری تنظیموں، تعلیمی اداروں اور تجارتی انجمنوں کے قریباً 20 ہزار نمائندگان شریک ہوں گے۔

پاکستان کی معدنیات اور کان کنی کی صنعت کی کم از کم 13 عوامی اور نجی کمپنیاں بھی اس فورم میں شریک ہیں۔

وزارت پیٹرولیم کے بیان کے مطابق ملاقات میں سعودی وزیر بندر ابراہیم الخوریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون کے وسیع مواقع کی نشاندہی کی اور کہاکہ سعودی عرب پاکستان کی کان کنی کی صنعت کی ترقی میں اپنے علم اور تکنیکی مہارت کے ذریعے مدد فراہم کرے گا۔

علی پرویز ملک نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع فرٹیلائزر کی پیداوار اور طبی آلات کی صنعت میں بھی موجود ہیں۔

حال ہی میں سعودی عرب نے خود کو عالمی معدنیات اور توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا ہے اور سبز ٹیکنالوجی، پائیدار کان کنی کے طریقے اور بین الاقوامی شراکت داری میں سرمایہ کاری کو تیز کیا ہے، جو معدنیات اور کان کنی کی صنعت کے مستقبل کو تشکیل دے رہی ہے۔

پاکستان نے اپریل 2025 میں بھی ایک معدنیات سمٹ کا انعقاد کیا تھا، جس میں کینیڈا کی کمپنی بیریک گولڈ اور امریکا، سعودی عرب، چین، ترکیہ، برطانیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک کے عہدیداران نے شرکت کی تھی۔

اس سال پاکستان ایک اور پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ملک کے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے معدنی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری درکار ہے، اسحاق ڈار

پاکستان معدنیات سے مالا مال ’تھیٹین بیلٹ‘ کے وسط میں واقع ہے، جہاں ریکوڈک میں تانبے اور سونے کی کانوں میں ترقی کے مواقع موجود ہیں، اور توقع ہے کہ 2028 تک یہاں سے پیداوار شروع ہو جائےگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پاکستان دوطرفہ تعاون سعودی عرب کان کنی مشترکہ سرمایہ کاری معدنیات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان دوطرفہ تعاون کان کنی مشترکہ سرمایہ کاری معدنیات وی نیوز معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کے شعبے میں تعاون سرمایہ کاری کی صنعت

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ