پاکستان اور سعودی عرب کا معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پاکستان اور سعودی عرب نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ’فیوچر منرلز فورم‘ کے موقع پر سعودی وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر ابراہیم الخوریف سے ملاقات کی۔
مزید پڑھیں: منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025: معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان نیا تجارتی و معاشی مرکز قرار
اس دوران دونوں فریقین نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اس وقت ریاض میں ’فیوچر منرلز فورم‘ میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں۔ 13 سے 15 جنوری تک جاری رہنے والے اس فورم میں دنیا کے 160 سے زیادہ ممالک کی حکومتوں، کاروباری اداروں، کثیرالجہتی اور غیر سرکاری تنظیموں، تعلیمی اداروں اور تجارتی انجمنوں کے قریباً 20 ہزار نمائندگان شریک ہوں گے۔
پاکستان کی معدنیات اور کان کنی کی صنعت کی کم از کم 13 عوامی اور نجی کمپنیاں بھی اس فورم میں شریک ہیں۔
وزارت پیٹرولیم کے بیان کے مطابق ملاقات میں سعودی وزیر بندر ابراہیم الخوریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون کے وسیع مواقع کی نشاندہی کی اور کہاکہ سعودی عرب پاکستان کی کان کنی کی صنعت کی ترقی میں اپنے علم اور تکنیکی مہارت کے ذریعے مدد فراہم کرے گا۔
علی پرویز ملک نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع فرٹیلائزر کی پیداوار اور طبی آلات کی صنعت میں بھی موجود ہیں۔
حال ہی میں سعودی عرب نے خود کو عالمی معدنیات اور توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا ہے اور سبز ٹیکنالوجی، پائیدار کان کنی کے طریقے اور بین الاقوامی شراکت داری میں سرمایہ کاری کو تیز کیا ہے، جو معدنیات اور کان کنی کی صنعت کے مستقبل کو تشکیل دے رہی ہے۔
پاکستان نے اپریل 2025 میں بھی ایک معدنیات سمٹ کا انعقاد کیا تھا، جس میں کینیڈا کی کمپنی بیریک گولڈ اور امریکا، سعودی عرب، چین، ترکیہ، برطانیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک کے عہدیداران نے شرکت کی تھی۔
اس سال پاکستان ایک اور پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ملک کے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے معدنی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری درکار ہے، اسحاق ڈار
پاکستان معدنیات سے مالا مال ’تھیٹین بیلٹ‘ کے وسط میں واقع ہے، جہاں ریکوڈک میں تانبے اور سونے کی کانوں میں ترقی کے مواقع موجود ہیں، اور توقع ہے کہ 2028 تک یہاں سے پیداوار شروع ہو جائےگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان دوطرفہ تعاون سعودی عرب کان کنی مشترکہ سرمایہ کاری معدنیات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان دوطرفہ تعاون کان کنی مشترکہ سرمایہ کاری معدنیات وی نیوز معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کے شعبے میں تعاون سرمایہ کاری کی صنعت
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔