این آئی آر سی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ کیوں دیا؟ شوکت عزیز صدیقی نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
قومی صنعتی تعلقات کمیشن (این آئی آر سی) کے مستعفی چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ انہوں نے اسی لمحے استعفیٰ دے دیا جب انہیں یہ باور کرایا گیا کہ این آئی آر سی کی چیئرمین شپ بطور ازالہ دی گئی ہے۔
این آئی آر سی کے مستعفی چیئرمین نے یہ بات سپریم کورٹ بار کے نائب صدر کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ الوداعی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مزید پڑھیں: چیئرمین این آئی آر سی شوکت عزیز صدیقی عہدے سے مستعفی
انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر قانون نے نومبر 2024 میں رابطہ کر کے انہیں چیئرمین این آئی آر سی کی ذمہ داری سنبھالنے کی پیشکش کی، اور 4 دسمبر 2024 کو انہوں نے چارج سنبھالا۔ اس وقت ادارے پر دباؤ تھا کہ اسے بند کیا جائے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بتایا کہ این آئی آر سی میں اس دوران زیر التوا کیسز کی تعداد 5380 تھی، جن میں سے 31 دسمبر 2025 تک 5261 کیسز نمٹائے گئے۔ اس عرصے میں 5522 نئے کیسز بھی دائر ہوئے، جو ادارے پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر تھے۔
انہوں نے عوام کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوگ حیران ہیں کہ اچانک استعفیٰ کیوں دیا؟ میں اپنے دل کی سنتا ہوں، دماغ کی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عہدوں کے پیچھے نہیں بھاگتے، این آئی آر سی کی چیئرمین شپ ایک چیلنج کے طور پر قبول کی تھی، لیکن جب یہ محسوس ہوا کہ چیئرمین شپ بطور ازالہ دی گئی ہے تو فوراً استعفیٰ دے دیا کیونکہ انہیں کوئی فیور یا سہولت نہیں چاہیے تھی۔
سابق جج ہائیکورٹ نے کہا کہ جنہوں نے ان کے کریئر کو نقصان پہنچایا، جھوٹے الزامات لگائے یا بہتان تراشی کی، ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں کیونکہ اللہ سب سے بہتر انصاف کرنے والا ہے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے صحافی اور یوٹیوبر مطیع اللہ جان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بعض باتوں پر یکطرفہ کلاس لی جاتی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ وہ آمنے سامنے بیٹھ کر حقائق واضح کریں گے اور اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ کی شناخت بھی کریں گے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی ختم، ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری
واضح رہے کہ شوکت عزیز صدیقی کو 2018 میں ایک تقریر کرنے کی پاداش میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں قاضی فائز عیسیٰ نے بحیثیت چیف جسٹس پاکستان ان کی پینشن بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews استعفی اسلام آباد ہائیکورٹ این آئی آر سی چیئرمین شپ شوکت عزیز صدیقی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفی اسلام ا باد ہائیکورٹ این ا ئی ا ر سی چیئرمین شپ شوکت عزیز صدیقی وی نیوز شوکت عزیز صدیقی نے چیئرمین شپ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔