Jasarat News:
2026-06-02@20:39:32 GMT

امریکی سینیٹر مارک کیلی نے وزارتِ دفاع پر مقدمہ کردیا

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سینیٹر مارک کیلی نے امریکی وزارتِ دفاع اور اس کے سیکریٹری پیٹ ہیگستھ کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ۔ سینیٹر کیلی نے وزارتِ دفاع پر الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے خلاف انتقامی اور سزا دینے والی کارروائیاں کیں جو ان کے آئینی حقِ آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ مقدمہ واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا جس میں امریکی بحریہ اور اس کے سیکریٹری جان فیلن کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ یہ تنازع گزشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوا جب سینیٹر کیلی سمیت 6ڈیموکریٹ قانون سازوں نے ایک وڈیو جاری کی جس میں فوجی اہلکاروں کو ’غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کرنے کی یاد دہانی کروائی گئی تھی۔ ڈیموکریٹس کے مطابق یہ پیغام امریکی قانون اور آئین کے عین مطابق تھا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے اسے بغاوت پر اکسانے کے مترادف قرار دیا۔ ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک کیلی امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ کیپٹن بھی رہ چکے ہیں، جو اس معاملے میں خاص طور پر نشانے پر رہے۔ وزارتِ دفاع نے ویڈیو کے بعد ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا اور حتیٰ کہ کورٹ مارشل کی دھمکی بھی دی۔ اس معاملے پر حال ہی میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ اْنہوں نے سینیٹر کیلی کے خلاف باضابطہ ایک سرکاری لیٹر جاری کیا ہے، جس میں اِن پر فوجی نظم و ضبط کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا۔ اس خط میں کیلی کا فوجی رینک کم کرنے اور ریٹائرمنٹ مراعات متاثر کرنے کی سفارش بھی کی گئی تھی۔ سینیٹر کیلی نے ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ناصرف ان کے بلکہ تمام ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کے لیے خطرناک مثال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سابق فوجی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کریں تو انہیں سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ مقدمے میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ سینیٹر کیلی کے خلاف تمام تادیبی کارروائیاں روکی جائیں اور وزیرِ دفاع کا خط غیر قانونی قرار دیا جائے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی منتخب رکن کانگریس کو سیاسی اظہار پر فوجی سزا دینا امریکی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور غیر آئینی قدم ہے۔سینیٹر کیلی نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی رینک محنت اور قربانی سے حاصل کیا جاتا ہے اور برسوں بعد محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اسے چھیننے کی دھمکی دینا ناانصافی ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیلی نے کے خلاف

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان