ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا، انٹرنیشنل کالز بحال، انسانی حقوق تنظیم کا 1850 ہلاکتوں کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں دو ہفتوں سے جاری پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج رکنے کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی کالز بحال کر دی گئی ہیں، تاہم انٹرنیٹ سروس اب بھی معطل ہے۔
امریکی انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 1850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، ایرانی انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے کئی گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی کارروائی کی کوشش کی تو ایران پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے مہنگائی کے خلاف جائز احتجاج کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور مظاہرین سے ریلیف پر بات چیت جاری تھی، مگر ٹرمپ کو مداخلت کا موقع دینے کے لیے سازشی طور پر مظاہروں کو پرتشدد بنا دیا گیا تاکہ ایران کے خلاف بیرونی فوجی کارروائی کا جواز تلاش کیا جا سکے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ ان کے پاس بیرون ملک سے دہشت گرد ایجنٹوں کو احکامات دینے کے شواہد موجود ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے جرمن چانسلر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برلن انسانی حقوق کے لیکچر دینے کے لیے سب سے کمزور مقام ہے، کیونکہ جرمن چانسلر وینزویلا کے صدر کے اغوا پر خاموش رہے اور غزہ میں 70 ہزار شہیدوں پر بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جس پر جرمنی کو شرمندگی محسوس کرنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔