Jasarat News:
2026-07-24@02:08:56 GMT

ایرانی اداروں پر قبضہ کرلیں ‘ مدد پہنچ رہی ہے‘ ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن /نیویارک /تہران /سڈنی /برسلز /سڈنی /دوحا / (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میں جاری مظاہروں کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچ رہی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اپنے اداروں پر قبضہ کرلیں‘ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کردی ہیں جب تک مظاہرین کا قتل عام بند نہیں کیا جاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا اسے امریکا کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد ٹیرف (محصولات) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ’ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (ھرانا) کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران ایران میں 1850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور علاقائی شراکت داروں نے قطر کے العدید ائر بیس میں ایک نیا کوآرڈی نیشن سیل قائم کیا ہے جس کا مقصد فضائی اور میزائل دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا کہ قطر میں قائم کمبائنڈ ائر آپریشنز سینٹر 20 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس وقت یہ 17 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے جواب میں ایران پر حملوں پر غور کر رہے ہیں تاہم نائب صدر چاہتے ہیں کہ حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔ ایران میں امریکا کے ورچوئل سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج شدت اختیار کر رہا ہے اور یہ تشدد میں بدل سکتا ہے۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکیہ کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں ایران آج زیادہ طاقتور ہے۔ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ 2025ء میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ ایرانی مسلح افواج کے لیے ایک ’منفرد اور غیر معمولی تجربہ‘ تھا، کیونکہ ایران واحد ملک ہے جس نے اسرائیل جیسے مغربی ٹیکنالوجی اور حمایت سے لیس ملک کے ساتھ اس پیمانے پر براہِ راست محاذ آرائی کی اس کی وجہ ایران کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت حاصل ہو چکی ہے۔ قطر نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم کے خطے پر سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحا میں پریس کانفرنس میں کہا کہ جانتے ہیں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا عسکری کارروائی کے نتائج خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گے۔اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت دھمکی پر جواب دینے ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ اور سینئر ایرانی رہنما علی لاریجانی سامنے آئے ہیں۔ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام کے اصل قاتل خود امریکا اور اسرائیل کی قیادت ہے‘ ایرانی عوام کے اصل قاتلوں کے نام یہ ہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر ایرانی قوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ عظیم ایرانی قوم نے ایک تاریخی دن رقم کیا ہے، عظیم ریلیوں نے غیرملکی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔روسی وزارتِ خارجہ نے امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ایران پر ’نئے فوجی حملوں کی دھمکیاں‘ دینا ناقابلِ قبول ہے۔ وزارت نے صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات کی دھمکی کو بھی ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا۔ ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران میں بدامنی کو ’بہانہ‘ بنا کر دوبارہ حملے نہ کرے ۔ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بند کیے جانے کے بعد اب سیٹلائیٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا۔ گزشتہ ہفتے ایرانی حکومت نے ملک میں زیادہ تر انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیے تھے جبکہ فون کالز اور ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کی سہولت بھی محدود کردی گئی تھی۔ امریکی اخبار کے مطابق انٹرنیٹ تک بلا تعطل رسائی صرف حکومت، اس کے میڈیا اداروں اور حکومت کے حامیوں کو حاصل ہے۔ایک امریکی این جی او نیٹ فریڈم پاینیرز کے شریک بانی مہدی یحییٰ نیجاد نے امریکی اخبار کو بتایا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے سروس میں خلل ڈالنے کی کوششوں سے اسٹارلنک کی رفتار ضرور متاثر ہوئی ہے تاہم اسے مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکا۔ ایران میں ایک ماہ کے لیے جامعات بند کردی گئیں طلبہ کو اپنے ممالک جانے کی اجازت دے دی گئی۔ تہران میں پاکستان کے سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستانی طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنا پروگرام اسی تناظر میں مرتب کر لیں۔‘یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کے اس کی عمارت میں داخلے پر پابندی کے اقدام کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ انہوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ ایران یورپی یونین کے ساتھ دشمنی مول نہیں لینا چاہتا لیکن ’ہم کسی بھی پابندی کے خلاف جوابی کارروائی کریں گے۔‘یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے ذمہ دار حکام پر مزید پابندیاں ’جلد‘ تجویز کرے گا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کو ’خوفناک‘ قرار دیا اور ’طاقت کے حد سے زیادہ استعمال اور آزادی پر مسلسل پابندیوں‘ کی مذمت کی۔ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ نے ایران کی حکومت کو ’جابرانہ حکومت‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ حمایت کیا ہے۔ پینی وانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’دنیا نہ صرف یہ چاہتی ہے کہ آپ اپنے عوام کا قتل عام بند کریں، بلکہ وہ حکومت جو اقتدار کے لیے اپنے عوام کو قتل کرنے پر مجبور ہو، ایسی حکومت کسی بھی طرح اقتدار میں رہنے کا جواز نہیں رکھتی۔‘

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے سوشل میڈیا اپنے بیان میں نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مظاہروں کے میں کہا کہ کی جانب سے ایران میں نے ایران کہ ایران ایران کے کے خلاف کسی بھی کے ساتھ ایکس پر ہے کہ ا کی صدر کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی