Jasarat News:
2026-07-24@08:22:53 GMT

ایرانی اداروں پر قبضہ کرلیں ‘ مدد پہنچ رہی ہے‘ ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260114-01-31
واشنگٹن /نیویارک /تہران /سڈنی /برسلز /سڈنی /دوحا / (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میں جاری مظاہروں کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچ رہی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اپنے اداروں پر قبضہ کرلیں‘ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کردی ہیں جب تک مظاہرین کا قتل عام بند نہیں کیا جاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا اسے امریکا کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد ٹیرف (محصولات) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ’ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (ھرانا) کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران ایران میں 1850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور علاقائی شراکت داروں نے قطر کے العدید ائر بیس میں ایک نیا کوآرڈی نیشن سیل قائم کیا ہے جس کا مقصد فضائی اور میزائل دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا کہ قطر میں قائم کمبائنڈ ائر آپریشنز سینٹر 20 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس وقت یہ 17 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے جواب میں ایران پر حملوں پر غور کر رہے ہیں تاہم نائب صدر چاہتے ہیں کہ حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔ ایران میں امریکا کے ورچوئل سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج شدت اختیار کر رہا ہے اور یہ تشدد میں بدل سکتا ہے۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکیہ کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں ایران آج زیادہ طاقتور ہے۔ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ 2025ء میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ ایرانی مسلح افواج کے لیے ایک ’منفرد اور غیر معمولی تجربہ‘ تھا، کیونکہ ایران واحد ملک ہے جس نے اسرائیل جیسے مغربی ٹیکنالوجی اور حمایت سے لیس ملک کے ساتھ اس پیمانے پر براہِ راست محاذ آرائی کی اس کی وجہ ایران کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت حاصل ہو چکی ہے۔ قطر نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم کے خطے پر سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحا میں پریس کانفرنس میں کہا کہ جانتے ہیں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا عسکری کارروائی کے نتائج خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گے۔اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت دھمکی پر جواب دینے ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ اور سینئر ایرانی رہنما علی لاریجانی سامنے آئے ہیں۔ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام کے اصل قاتل خود امریکا اور اسرائیل کی قیادت ہے‘ ایرانی عوام کے اصل قاتلوں کے نام یہ ہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر ایرانی قوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ عظیم ایرانی قوم نے ایک تاریخی دن رقم کیا ہے، عظیم ریلیوں نے غیرملکی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔روسی وزارتِ خارجہ نے امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ایران پر ’نئے فوجی حملوں کی دھمکیاں‘ دینا ناقابلِ قبول ہے۔ وزارت نے صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات کی دھمکی کو بھی ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا۔ ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران میں بدامنی کو ’بہانہ‘ بنا کر دوبارہ حملے نہ کرے ۔ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بند کیے جانے کے بعد اب سیٹلائیٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا۔ گزشتہ ہفتے ایرانی حکومت نے ملک میں زیادہ تر انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیے تھے جبکہ فون کالز اور ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کی سہولت بھی محدود کردی گئی تھی۔ امریکی اخبار کے مطابق انٹرنیٹ تک بلا تعطل رسائی صرف حکومت، اس کے میڈیا اداروں اور حکومت کے حامیوں کو حاصل ہے۔ایک امریکی این جی او نیٹ فریڈم پاینیرز کے شریک بانی مہدی یحییٰ نیجاد نے امریکی اخبار کو بتایا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے سروس میں خلل ڈالنے کی کوششوں سے اسٹارلنک کی رفتار ضرور متاثر ہوئی ہے تاہم اسے مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکا۔ ایران میں ایک ماہ کے لیے جامعات بند کردی گئیں طلبہ کو اپنے ممالک جانے کی اجازت دے دی گئی۔ تہران میں پاکستان کے سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستانی طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنا پروگرام اسی تناظر میں مرتب کر لیں۔‘یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کے اس کی عمارت میں داخلے پر پابندی کے اقدام کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ انہوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ ایران یورپی یونین کے ساتھ دشمنی مول نہیں لینا چاہتا لیکن ’ہم کسی بھی پابندی کے خلاف جوابی کارروائی کریں گے۔‘یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے ذمہ دار حکام پر مزید پابندیاں ’جلد‘ تجویز کرے گا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کو ’خوفناک‘ قرار دیا اور ’طاقت کے حد سے زیادہ استعمال اور آزادی پر مسلسل پابندیوں‘ کی مذمت کی۔ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ نے ایران کی حکومت کو ’جابرانہ حکومت‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ حمایت کیا ہے۔ پینی وانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’دنیا نہ صرف یہ چاہتی ہے کہ آپ اپنے عوام کا قتل عام بند کریں، بلکہ وہ حکومت جو اقتدار کے لیے اپنے عوام کو قتل کرنے پر مجبور ہو، ایسی حکومت کسی بھی طرح اقتدار میں رہنے کا جواز نہیں رکھتی۔‘

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے سوشل میڈیا اپنے بیان میں نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مظاہروں کے میں کہا کہ کی جانب سے ایران میں نے ایران کہ ایران ایران کے کے خلاف کسی بھی کے ساتھ ایکس پر ہے کہ ا کی صدر کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران