ایرانی اداروں پر قبضہ کرلیں ‘ مدد پہنچ رہی ہے‘ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260114-01-31
واشنگٹن /نیویارک /تہران /سڈنی /برسلز /سڈنی /دوحا / (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میں جاری مظاہروں کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچ رہی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اپنے اداروں پر قبضہ کرلیں‘ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کردی ہیں جب تک مظاہرین کا قتل عام بند نہیں کیا جاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا اسے امریکا کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد ٹیرف (محصولات) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ’ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (ھرانا) کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران ایران میں 1850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور علاقائی شراکت داروں نے قطر کے العدید ائر بیس میں ایک نیا کوآرڈی نیشن سیل قائم کیا ہے جس کا مقصد فضائی اور میزائل دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا کہ قطر میں قائم کمبائنڈ ائر آپریشنز سینٹر 20 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس وقت یہ 17 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے خلاف حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے جواب میں ایران پر حملوں پر غور کر رہے ہیں تاہم نائب صدر چاہتے ہیں کہ حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔ ایران میں امریکا کے ورچوئل سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج شدت اختیار کر رہا ہے اور یہ تشدد میں بدل سکتا ہے۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکیہ کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں ایران آج زیادہ طاقتور ہے۔ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ 2025ء میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ ایرانی مسلح افواج کے لیے ایک ’منفرد اور غیر معمولی تجربہ‘ تھا، کیونکہ ایران واحد ملک ہے جس نے اسرائیل جیسے مغربی ٹیکنالوجی اور حمایت سے لیس ملک کے ساتھ اس پیمانے پر براہِ راست محاذ آرائی کی اس کی وجہ ایران کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت حاصل ہو چکی ہے۔ قطر نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم کے خطے پر سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحا میں پریس کانفرنس میں کہا کہ جانتے ہیں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا عسکری کارروائی کے نتائج خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گے۔اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت دھمکی پر جواب دینے ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ اور سینئر ایرانی رہنما علی لاریجانی سامنے آئے ہیں۔ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام کے اصل قاتل خود امریکا اور اسرائیل کی قیادت ہے‘ ایرانی عوام کے اصل قاتلوں کے نام یہ ہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر ایرانی قوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ عظیم ایرانی قوم نے ایک تاریخی دن رقم کیا ہے، عظیم ریلیوں نے غیرملکی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔روسی وزارتِ خارجہ نے امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ایران پر ’نئے فوجی حملوں کی دھمکیاں‘ دینا ناقابلِ قبول ہے۔ وزارت نے صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات کی دھمکی کو بھی ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا۔ ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران میں بدامنی کو ’بہانہ‘ بنا کر دوبارہ حملے نہ کرے ۔ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بند کیے جانے کے بعد اب سیٹلائیٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا۔ گزشتہ ہفتے ایرانی حکومت نے ملک میں زیادہ تر انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیے تھے جبکہ فون کالز اور ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کی سہولت بھی محدود کردی گئی تھی۔ امریکی اخبار کے مطابق انٹرنیٹ تک بلا تعطل رسائی صرف حکومت، اس کے میڈیا اداروں اور حکومت کے حامیوں کو حاصل ہے۔ایک امریکی این جی او نیٹ فریڈم پاینیرز کے شریک بانی مہدی یحییٰ نیجاد نے امریکی اخبار کو بتایا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے سروس میں خلل ڈالنے کی کوششوں سے اسٹارلنک کی رفتار ضرور متاثر ہوئی ہے تاہم اسے مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکا۔ ایران میں ایک ماہ کے لیے جامعات بند کردی گئیں طلبہ کو اپنے ممالک جانے کی اجازت دے دی گئی۔ تہران میں پاکستان کے سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستانی طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنا پروگرام اسی تناظر میں مرتب کر لیں۔‘یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کے اس کی عمارت میں داخلے پر پابندی کے اقدام کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ انہوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ ایران یورپی یونین کے ساتھ دشمنی مول نہیں لینا چاہتا لیکن ’ہم کسی بھی پابندی کے خلاف جوابی کارروائی کریں گے۔‘یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے ذمہ دار حکام پر مزید پابندیاں ’جلد‘ تجویز کرے گا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کو ’خوفناک‘ قرار دیا اور ’طاقت کے حد سے زیادہ استعمال اور آزادی پر مسلسل پابندیوں‘ کی مذمت کی۔ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ نے ایران کی حکومت کو ’جابرانہ حکومت‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ حمایت کیا ہے۔ پینی وانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’دنیا نہ صرف یہ چاہتی ہے کہ آپ اپنے عوام کا قتل عام بند کریں، بلکہ وہ حکومت جو اقتدار کے لیے اپنے عوام کو قتل کرنے پر مجبور ہو، ایسی حکومت کسی بھی طرح اقتدار میں رہنے کا جواز نہیں رکھتی۔‘
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے سوشل میڈیا اپنے بیان میں نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مظاہروں کے میں کہا کہ کی جانب سے ایران میں نے ایران کہ ایران ایران کے کے خلاف کسی بھی کے ساتھ ایکس پر ہے کہ ا کی صدر کے لیے کیا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔