data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260114-08-21
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بین الاقوامی طورپر ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق سرگرمیوں میں پاکستان فعال ملک کے طورپرشامل ہے، مواقع اور خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ضابطہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بات آئی کوئن ٹیکنالوجی کے وفد سے ملاقات میں کہی جس کی قیادت چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر چیٹ سلویستری کر رہے تھے۔ وزیرِ خزانہ نے وفد کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے منظم اور ذمے دارانہ فریم ورک کی تشکیل کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے وفد کو پاکستان کرپٹو کونسل اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق پیشرفت سے بھی آگاہ کیا اور ان اقدامات کے پس منظر، پالیسی اقدامات کی ترتیب، مارکیٹ کی ترقی، مالی شمولیت، شفافیت اور صارفین کے تحفظ پر ان کے وسیع تر اثرات کی وضاحت کی۔ وزیرِ خزانہ نے بین الاقوامی تجزیاتی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی سطح پر ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق سرگرمیوں میں پاکستان کی بڑھتی شمولیت کو اجاگر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ان سرگرمیوں کو ایک ایسے بہتر طور پر منظم ماحول میں ڈھالنا چاہتی ہے جو صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ساتھ ہی جدت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بالخصوص ایسے وقت میں جب پاکستانی شہریوں کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ،مواقع اور خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ضوابط ناگزیر ہیں۔ چیٹ سلویستری نے امریکا اور کینیڈا کی مارکیٹوں کے تجربات کی روشنی میں اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور بینکوں، ایکسچینجز اور بڑے صارفین پر مشتمل پلیٹ فارمز کے ساتھ آئی کوائین ٹیکنالوجی کے کام کا حوالہ دیا۔ ملاقات میں آئی کوائن کی عالمی سرگرمیوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا جن میں ایسے شراکت داری کے منصوبے شامل ہیں جو بڑے صارفین کو ڈیجیٹل اثاثہ جاتی خدمات تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ وفد نے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں مواقع تلاش کرنے میں کمپنی کی دلچسپی کا اظہار کیا اور متعلقہ ریگولیٹری راستوں، لائسنسنگ کے تقاضوں اور بینکوں اور ریگولیٹرز سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی طلب کی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈیجیٹل اثاثوں کیا اور کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار